ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ہند-امریکہ تجارتی معاہدے سے کشمیر کے سیب کاشتکاروں کو بھاری نقصان ہوگا: تاریگامی

تاریگامی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کو واشنگٹن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔

M Y Tarigami PC
محمد یوسف تاریگامی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 28, 2026 at 7:24 AM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: سینئر سی پی آئی (ایم) رہنما اور رکنِ اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جمعہ کے روز حالیہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے جموں و کشمیر کی سیب معیشت پر ممکنہ منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقامی کاشتکار بھاری سبسڈی یافتہ امریکی درآمدات کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

محمد یوسف تاریگامی (ETV Bharat)

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکی سیب، اخروٹ اور دیگر زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈی میں ڈیوٹی فری داخلے کی اجازت ملے گی، جب کہ بھارتی اشیاء کو امریکہ میں اب بھی ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا سامنا رہے گا۔


تاریگامی نے کہا کہ "یہ عملی طور پر امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے خاص طور پر کشمیر کی فروٹ انڈسٹری متاثر ہوگی جو خطے کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔


انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیب پیدا کرنے والوں کو بھاری سرکاری سبسڈی ملتی ہے، جب کہ کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے کاشتکار مہنگی کھاد اور زرعی ادویات سمیت بلند پیداواری لاگت اور سڑکوں کی بندش جیسے لاجسٹک مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔


تاریگامی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع محدود ہیں اور زرعی شعبہ، خصوصاً باغبانی، لوگوں کے روزگار کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا، "سرکاری نوکریاں کم ہیں، نجی شعبہ کمزور ہے، روایتی صنعتیں جیسے قالین اور شال سازی تقریباً ختم ہو چکی ہیں، جب کہ سیاحت بھی غیر یقینی حالات کا شکار رہتی ہے۔"


سی پی آئی (ایم) رہنما نے انکشاف کیا کہ آل انڈیا ایپل فارمرز فیڈریشن، جس میں کشمیر، ہماچل اور اتراکھنڈ کے کاشتکار شامل ہیں، کو حکومت کی مداخلت کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔ انہوں نے حالیہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے متاثر کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (KCC) قرضوں پر ایک مرتبہ کی راحت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔


تاریگامی نے اس معاہدے کو امریکی دباؤ کے مطابق بھارت کی تجارتی پالیسیوں کو ڈھالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے روس سے تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیا اور ملک کی آزاد تجارتی پالیسی پر سوال اٹھایا۔

مزید پڑھیں:

بھارت امریکہ تجارتی معاہدے پر پی ڈی پی کی تشویش، کشمیری سیب صنعت کو نقصان کا خدشہ

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے سے سیب کاشت کار پریشان، روزی روٹی کا خوف