ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں کشمیر میں منشیات مخالف جنگ اب عوامی تحریک بن چکی ہے: ایل جی سنہا
گاندربل میں انسداد منشیات مہم کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے نارکو ٹیررزم کے خاتمہ پر زور دیا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : June 6, 2026 at 7:25 AM IST
گاندربل (فردوس احمد تانترے): جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور نارکو ٹیررزم کے خلاف جاری جنگ اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے ، اور انتظامیہ اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی جب تک منشیات فروشوں اور نارکو ٹیررزم کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ گاندربل میں انسداد منشیات مہم کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 55 روز قبل شروع کی گئی نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کا مقصد نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانا اور منشیات کے کاروبار کے ذریعے ملی ٹینسی کو مالی مدد فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو تباہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات نہ صرف نوجوان نسل کا مستقبل تباہ کرتی ہیں بلکہ عسکریت پسندوںکو مالی وسائل کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں، جس کے ذریعے ملک دشمن عناصر ہتھیار خرید کر جموں و کشمیر میں تشدد کو فروغ دیتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے نارکو ٹیررزم کو عوام اور نوجوانوں کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار کے علاوہ جموں و کشمیر کے اندر بھی کئی عناصر منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نارکو ٹیررزم میں ملوث عناصر پہلے ہی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور آئندہ ان کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ نے اس لعنت سے نمٹنے کیلئے تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں منشیات کی سپلائی چین توڑنا، عوامی بیداری پیدا کرنا اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنے، اسمگلروں کو گر فتار کرنے اور غیر قانونی اثاثے ضبط کرنے کیلئے سر گرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے کالے دھن سے تعمیر کی گئی عمارتوں، خصوصاً سرکاری اراضی پر قائم ڈھانچوں کو بھی منہدم کیا جا رہا ہے۔ آگاہی مہم کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے گاندربل ضلع انتظامیہ اور پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیہات اور پنچایت سطح پر وسیع پیمانے پر پروگرام منعقد کر کے عوام کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔
باز آباد کاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ منشیات کے عادی افراد کو علاج ، کونسلنگ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے پُر عزم ہے تاکہ انہیں عزت اور وقار کے ساتھ دوبارہ سماج کا حصہ بنایا جا سکے۔ مہم کی پیش رفت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 55 دنوں کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف 1036 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ 1128 اسمگلروں کو گر فتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 63 اسمگلروں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کہا کہ 63 اسمگلروں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ 100 سے زائد جائیدادیں ضبط کی گئیں اور 700 سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 130 بڑے منشیات فروشوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں جبکہ دیگر کئی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ انسداد منشیات مہم کیلئے عوامی تعاون طلب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں سے پوچھا کہ آیا وہ اسمگلروں کے خلاف کارروائی جاری رکھنا چاہتے ہیں، جس پر عوام نے بھر پور انداز میں سخت کارروائیوں کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا، ”ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک جموں و کشمیر کی سر زمین سے منشیات فروشوں اور نار کو ٹیر رزم کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ معاشرے کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

