ETV Bharat / jammu-and-kashmir

لداخ، لیفٹیننٹ گورنر کو 100 کروڑ روپے تک کے پروجیکٹس کلیئر کرنے کا اختیار واپس

مرکزی وزارت خزانہ نے یہ اختیارات بجٹ کی دستیابی اور سیکریٹری فائنانس یا مالی مشیر سے مشاورت کے ساتھ مشروط رکھ ہیں۔

ا
کویندر گپتا (فائل فوٹو: اے این آئی)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : January 2, 2026 at 4:58 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: مرکزی وزارت خزانہ نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کو اہم مالی اختیارات دوبارہ عطا کیے ہیں۔ مرکزی سرکار نے اس ضمن میں سرکاری حکمنامہ جاری کیا جس کی رو سے بعد اب یونین ٹیریٹری لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ایک سو کروڑ روپے تک کے ترقیاتی منصوبے منظور اور ان کی جانچ کر سکیں گے۔

یہی اختیارات انڈمان اینڈ نیکوبار، چندی گڑھ، لکشدیپ، دادرا اینڈ نگر حویلی اور دمن اینڈ دیو کے منتظمین اور لیفٹیننٹ گورنرز کو بھی دیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ ڈیلی گیشن آف فائنانشل پاورز رولز 2024 کے تحت کیا گیا ہے۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ یہ اختیارات یونین ٹیریٹری کے سیکریٹری فائنانس یا مالی مشیر سے مشاورت کے بعد ہی استعمال ہوں گے اور منصوبوں کی منظوری بجٹ کی دستیابی سے بھی مشروط ہوگی۔ جبکہ یہ اختیارات کسی اور کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔

منظور شدہ منصوبوں کی تفصیلات ہر تین ماہ بعد وزارت داخلہ کے ذریعے ڈیپارٹمنٹ آف ایکسپینڈیچر کو بھیجی جائیں گی۔ رپورٹس ہر سال جولائی، اکتوبر، جنوری اور اپریل کے آخر تک جمع کرانا لازمی ہے۔

مرکزی وزارت خزانہ نے ایل جی کے اختیارات واپس کیے
مرکزی وزارت خزانہ نے ایل جی کے اختیارات واپس کیے (Special Arrangement)

یاد رہے کہ گزشتہ سال ایل جی کے مالی اختیارات واپس لیے گئے تھے اور کروڑ سے اوپر کے منصوبے براہ راست مرکزی سرکار سے منظور کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر لداخ میں شدید ناراضگی پائی گئی تھی۔

مقامی سیاسی رہنماؤں، خاص طور پر لداخ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وفد نے اس فیصلے کو عوامی مفاد کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اختیارات واپس لینے سے ترقیاتی کام سست ہو سکتے ہیں اور انتظامی رکاوٹیں بھی بڑھیں گی۔‘‘

علاقے کے کئی سینئر لیڈروں نے بھی خبردار کیا تھا کہ مرکز میں اختیارات محدود کرنے سے ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہوگی۔ سابق رکن پارلیمنٹ جمنگ تسرنگ نامگیال نے کہا تھا کہ ’’لمبے فاصلے اور مختصر موسم والے علاقے میں یہ فیصلہ ترقی کو متاثر کر سکتا ہے۔‘‘ کرگل کے رہنماؤں نے بھی کہا تھا کہ ’’لداخ کے ساتھ دیگر یونین ٹیریٹریز کے مقابلے میں ناانصافی ہو رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:

احتجاج، گرفتاریوں اور شہری ہلاکتوں سے عبارت 2025لداخ کے لیے ہنگامہ خیز رہا