ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں و کشمیر کے مستقبل کی قیادت کریں، طلبا کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا مشورہ

تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیرِتعلیم سکینہ ایتو، مشیرِ وزیرِ اعلیٰ ناصر اسلم وانی، وائس چانسلر نیلوفر خان کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔

جموں و کشمیر کے مستقبل کی قیادت کریں، طلبا کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا مشورہ
جموں و کشمیر کے مستقبل کی قیادت کریں، طلبا کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا مشورہ (ETV Bharat)
author img

By Mir Farhat Maqbool

Published : February 26, 2026 at 9:45 PM IST

|

Updated : February 26, 2026 at 9:59 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ، جو یونیورسٹی آف کشمیر کے پرو چانسلر بھی ہیں، نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ زرعی سائنس، اختراع (انوویشن) اور پائیدار ترقی کے میدان میں فعال کردار ادا کریں تاکہ خطے کو جدید اور خود کفیل معیشت کی جانب گامزن کیا جا سکے۔ وہ جامعہ کشمیر کے 21ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے جس میں نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھاکرشنن مہمانِ خصوصی تھے۔

تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر و چانسلر منوج سنہا، وزیرِ تعلیم سکینہ ایتو، مشیرِ وزیرِ اعلیٰ ناصر اسلم وانی، وائس چانسلر نیلوفر خان، یونیورسٹی کونسل کے اراکین، اساتذہ اور فارغ التحصیل طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ طویل عرصے تک جموں و کشمیر کی معیشت کو محدود زاویہ سے دیکھا گیا، کبھی صرف سیاحت اور کبھی صرف زراعت کے تناظر میں لیکن 2026 کا جموں و کشمیر اختراع اور عوامی شراکت داری پر مبنی حکمرانی کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے حال ہی میں پیش کیے گئے 2026-27 کے بجٹ کو “فِسکل کمپاس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض حساب کتاب نہیں بلکہ جدید، ترقی یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط خطے کی سمت واضح کرنے والا عزم نامہ ہے۔ حالیہ برسوں کے چیلنجز اور 2025 کے صدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی ثابت قدمی ہی اصل طاقت ہے۔ ان کی حکومت تین ستونوں میرٹ، پائیداری اور ڈیجیٹل خود مختاری پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے طلبہ کو والدین کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ آج حاصل ہونے والی ڈگری ان کے والدین کی محنت کا بھی ثمر ہے۔ انہوں نے حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جنت ماں کے قدموں نیچے ہے” اور اساتذہ کی رہنمائی پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس سال تقریباً 60 فیصد ڈگریاں اور تمغے طالبات نے حاصل کیے، جو خطے میں “خواتین کی فلاح” سے “خواتین کی قیادت میں ترقی” کی جانب پیش رفت کا مظہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اُمید اسکیم کے تحت لاکھوں خواتین کو سیلف ہیلپ گروپس میں منظم کیا گیا ہے اور خواتین کی قیادت میں اسٹارٹ اپس کے لیے بلاسود قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔ سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گل مرگ اور پہلگام سے آگے بڑھ کر سرحدی علاقوں جیسے کیرن، گریز اور تیتوال میں بھی سیاحتی امکانات فروغ دیے جا رہے ہیں۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے پائیدار انفراسٹرکچر اور ایکو فرینڈلی سہولیات پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ زرعی شعبے میں “ہائی ڈینسٹی انقلاب” کے ذریعے عالمی منڈیوں تک برآمدات بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، ریئل ٹائم پیسٹ ڈیٹیکشن ایپس اور بلاک چین سسٹم تیار کرنے کی ترغیب دی گئی تاکہ پامپور کے زعفران جیسی مصنوعات کی عالمی سطح پر تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے “زعفران اینڈ سلیکن” وژن پیش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو گرین ڈیٹا سینٹرز اور علم پر مبنی صنعتوں کے لیے موزوں مقام بنانے کا اعلان کیا، تاکہ نوجوان روزگار تلاش کرنے کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ ذہنی صحت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ حکومت مشن یوتھ کے تحت ضلعی سطح پر کونسلنگ کا دائرہ بڑھا رہی ہے اور سماجی بدنامی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر کانگریس کا ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کاشتکاروں تک پہنچنے کا اعلان

آخر میں مہاتما گاندھی کے قول “وہ تبدیلی خود بنو جو دنیا میں دیکھنا چاہتے ہو” کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ انصاف، علم اور انسانیت کی اقدار کو اپناتے ہوئے کشمیر کو روشن مستقبل کی طرف لے جائیں۔

Last Updated : February 26, 2026 at 9:59 PM IST