ETV Bharat / jammu-and-kashmir
روس - یوکرین جنگ میں مارے گئے جموں کے نوجوان کی آخری رسومات ادا، گھر میں کہرام
متوفی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک گیا تھا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 23, 2026 at 6:13 PM IST
|Updated : February 24, 2026 at 4:08 PM IST
جموں (عامر تانترے) : روس - یوکرین جنگ میں ہلاک ہوئے جموں کے ایک نوجوان کی جسد خاکی اتوار کو اُس کے آبائی گاؤں پہنچائی گئی جہاں پر نم آنکھوں کے ساتھ اس کی آخری رسومات ادا کی گئیں، وہیں اہل خانہ کو سانحے نے جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
جموں میں آر ایس پورہ کے اگوان گاؤں سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ منیندر سنگھ جوہل دسمبر 2024 میں اعلیٰ تعلیم کے خواب کے ساتھ اسٹڈی ویزا پر روس گئے تھے، مگر دو برس بعد ان کی لاش وطن لوٹی تو پورا خاندان سکتے میں آ گیا۔
تعلیم کا خواب، جنگ کا انجام
اہلِ خانہ کے مطابق منیندر نے بیرون ملک تعلیم کے لیے روس کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ کینیڈا یا آسٹریلیا کے مقابلے وہاں اخراجات کم تھے، جہاں داخلے کے لیے بیس لاکھ روپے سے زائد خرچ آتا۔
ان کے کزن رویندر سنگھ نے بتایا کہ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا، لیکن گزشتہ سال اگست میں اچانک اطلاع ملی کہ منیندر روسی فوج میں شامل ہو گیا ہے۔ انہیں پندرہ روزہ بنیادی تربیت دی گئی اور یقین دلایا گیا کہ انہیں جنگی ذمہ داریوں میں شامل نہیں کیا جائے گا بلکہ عارضی اور جزوی طور کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ 21 اگست 2025 کے بعد خاندان کا منیندر سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں روس میں بھارتی سفارت خانے کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہیں یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں ’فارورڈ لائن‘ پر بھیج دیا گیا ہے۔
اہل خاندان کے مطابق وہ کئی ماہ تک منتظر رہے مگر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور بالآخر معلوم ہوا کہ منیندر کی موت گزشتہ برس اگست میں ہی ہو چکی تھی اور روسی فوج نے بعد میں میت بھارت بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔
رویندر سنگھ نے کہا، ’’ہمیں فخر ہے کہ ہمارا بھائی وردی میں تھا، مگر سوال یہ ہے کہ تعلیم کے لیے جانے والے بے گناہ نوجوان آخر فوج میں کیسے بھرتی ہوا؟ ہم نہیں چاہتے کوئی اور خاندان اس درد سے گزرے۔‘‘
ایجنٹوں کے کردار پر سوال
حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف حصوں سے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ نوجوانوں کو روس میں عارضی ملازمت کے نام پر فوجی تربیت دے کر جنگی علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔
سماجی کارکن امن دیپ سنگھ بوپاری نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں چند ہی ایجنٹ وزارت خارجہ سے مجاز ہیں، جبکہ دیگر افراد مخصوص فارم استعمال کرکے طلبہ کو بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔ ان کے مطابق جموں خطے کے تقریباً چار سے پانچ سو نوجوان مختلف ویزوں پر روس پہنچے اور بعد میں فوج میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں تین نوجوانوں کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی گئی، تاہم منیندر جنگی محاذ پر جان گنوا بیٹھے۔
بوپاری نے مزید کہا کہ اس معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ اور ڈپٹی کمشنر جموں کو خطوط لکھے گئے مگر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
گاؤں سوگوار
منیندر سنگھ کے گھر تعزیت کے لیے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین جموں و کشمیر یونٹ کے صدر کوشل کمار ترگوترا نے سوگوار خاندان سے ملاقات کے بعد کہا کہ ’’سرحدی علاقوں کے نوجوان ہمیشہ فوج میں شامل ہونے کا خواب دیکھتے ہیں، شاید یہی جذبہ منیندر کو اس راستے پر لے گیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’خاندان اپنا بڑا بیٹا کھو چکا ہے اور اب تک کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں ملا۔‘‘ ان کے مطابق حکومت ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو فوری طور پر متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ’’منیندر سے پہلے بھی ملک کے مختلف حصوں کے کم از کم چار نوجوان اسی طرح جان گنوا چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے بیرون ملک تعلیم کے نام پر جاری اس سلسلے پر سنجیدہ سوالات کیے۔
یہ بھی پڑھیں:

