ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا واقعہ: پانچ ماہ بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر

راجیش کمار نے کہاکہ ہمیں صرف ایک لاش ملی، دیگر سات افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہم پیسے نہیں صرف انصاف مانگ رہے ہیں۔

کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا واقعہ: پانچ ماہ بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر
کشتواڑ میں بادل پھٹنے کا واقعہ: پانچ ماہ بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : January 21, 2026 at 7:58 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں: (محمد اشرف گنائی) چسوٹی گاؤں، جو کہ ماچھیل ماتا مندر کا گیٹ وے ہے، میں گذشتہ 14 اگست 2025 کو شدید بادل پھٹنے کے واقعے میں زیادہ تر یاتریوں سمیت 65 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے اور ابھی بھی گزشتہ کئی ماہ سے پنجاب کے جالندھر سے تعلق رکھنے والے راجیش کمار اور بندیّا امید اور مایوسی کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جموں میں اپنی 22 سالہ بیٹی ونشیکا اور اس کی سہیلی دِشا کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں، جو اگست گزشتہ برس جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھیں۔

جموں کے پریس کلب میں آج راجیش کمار اور بندیّا اپنی بیٹی اور اس کی سہیلی کی تصاویر ہاتھوں میں تھامے جموں کے پریس کلب کے باہر دیگر متاثرین کے ساتھ جمع ہوئے اور انصاف و جواب کا مطالبہ کیا۔ اسی سانحے میں جموں کے ایک اور خاندان کے آٹھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تاہم متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ معاوضہ نہیں بلکہ سرکاری طور پر اپنے پیاروں کی موت کی تصدیق چاہتے ہیں تاکہ وہ آخری رسومات ادا کر سکیں۔ ڈی این اے رپورٹس کے التوا کے باعث ہر گزرتا دن ان کے لیے اذیت کا سبب بن رہا ہے اور وہ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ امید رکھیں یا حقیقت کو قبول کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہ انہیں کوئی معاوضہ ملا ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی پیش رفت ہوئی۔میری بیٹی اور اس کی سہیلی ایم بی اے کی طالبات تھیں۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرے تاکہ ہم آخری رسومات ادا کر سکیں۔ اسی طرح کی دردناک داستان جموں کے ریشم گڑھ کالونی کے رہائشی رمیش کمار نے بھی سنائی،جن کے خاندان کے آٹھ افراد اس سانحے میں ہلاک ہو گئے۔


راجیش کمار نے کہا کہ ہمیں صرف ایک لاش ملی ہے، جبکہ سات افراد تین خواتین اور چار بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہم پیسے نہیں مانگتے، صرف انصاف چاہتے ہیں اور چھ ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ڈیتھ سرٹیفکیٹس چاہتے ہیں۔” جالندر سے ائی ہوئی بندیا دیوی نے ائ ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب ساتھ چل رہے تھے ہماری بیٹی اور اس کی سہیلی ہم سے آگے نکل گئیں اور پھر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا انہوں نے کہا ہم اپنے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے لیکن ہمیں کم از کم ایک اختتام اور تسلی تو ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: چشوتی بادل پھٹنے کے ایک ماہ کے بعد بھی 31 لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں


انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ستمبر میں ڈی این اے سیمپل لیے گئے لیکن تاحال کوئی رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔