ETV Bharat / jammu-and-kashmir

دورۂ کشمیر  سے دفعہ 370کی تنسیخ کی مذمت تک: خامنہ ای کا کشمیرکے ساتھ تعلق

انقلاب ایران کے فوراً بعد خامنہ ای نے کشمیر کا دورہ کیا تھا، انہوں نے کئی مرتبہ عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کابھی ذکر کیا۔

ا
خامنہ ای نے سال 1980میں کشمیر کا دورہ کیا تھا (Photo source: Iran Govt Archives)
author img

By Muhammad Zulqarnain Zulfi

Published : March 2, 2026 at 11:33 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: مغربی ایشیا کے سب سے بااثر سیاسی اور مذہبی شخصیات میں سے ایک بننے سے قبل یعنی دہائیاں پہلے آیت اللہ علی خامنہ ای نے کشمیر کا دورہ کیا اور علاقے میں مسلمانوں کی حالت پر کھلے عام بات کی۔ دہائیوں بعد، ایران کے سپریم لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر تبصرہ جاری رکھا اور 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بھارت کی کھل کر تنقید کی۔

ایرانی انقلاب کے فوراً بعد خامنہ ای نے 1980 میں کشمیر کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب بھی کیا تھا۔

یہ دورہ کشمیر کی جدید سیاسی اور مذہبی تاریخ میں کم گو اور زیادہ معروف واقعہ نہیں۔ اُس وقت خامنہ ای (41) ایران کی بعد از انقلاب قیادت میں ایک اہم لیڈر کے طور پر ابھر رہے تھے۔ انقلاب کے دوران ایران میں1979 میں شاہ (محمدرضا پهلوی) کی حکومت گرنے کے بعد وسیع سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

جامع مسجد میں اپنے خطاب کے دوران خامنہ ای نے دنیا بھر میں مسلمانوں کی حالت پر بات کی اور سیاسی یا سماجی طور پر جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ ان کی تقریر نے کشمیر میں مذہبی علماء اور سیاسی مبصرین کی توجہ حاصل کی جو آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ہونے والی ترقیات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔

خامنہ ای نے جامع مسجد سرینگر کے علاوہ زڈی بل امام بارگاہ میں شیعہ اجتماعات سے بھی خطاب کیا، حضرت بل درگاہ کا دورہ کیا اور بڈگام بھی گئے جہاں معروف آغا خاندان نے ان کی مہمان نوازی کی۔

یہ دورہ انقلاب ایران کے ابتدائی برسوں میں ایران کی نظریاتی رسائی کی عکاسی کرتا ہے، جب اس کے رہنما دنیا بھر میں مسلم برادریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

برسوں بعد خامنہ ای نے 2019 میں مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت آرٹیکل 370 کو منسوخ کیے جانے کے بعد کشمیر کی صورتحال پر کھل کر تبصرہ کیا اور بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔ یاد رہے کہ دفعہ 370کی تنسیخ سے نہ صرف علاقے کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم ہو گئی بلکہ سابق ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز - جموں و کشمیر اور لداخ - میں منقسم کر دیا گیا تھا۔

اس وقت سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے خامنہ ای نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ "ہم کشمیر میں مسلمانوں کی حالت پر فکر مند ہیں،" انہوں نے لکھا: "ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ تاہم بھارت کو انصاف پسند پالیسی اپنانی چاہیے اور علاقے کے مسلمانوں کے خلاف مظالم کو روکنا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا: "کشمیر کی موجودہ صورتحال اور اس پر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات برطانوی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کا نتیجہ ہیں جب اس نے غیر منقسم برصغیر کو چھوڑا تھا۔ برطانوی جان بوجھ کر اس علاقے میں یہ زخم چھوڑ گئے تاکہ کشمیر میں تنازعات کو برقرار رکھا جا سکے۔"

ان کے بیانات نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں توجہ حاصل کی کیونکہ یہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے بیان جاری ہواا اور وہ بھی ایک ایسے ملک سے جو عام طور پر بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔

خامنہ ای نے دہائیوں پہلے بھی کشمیر پر بات کی تھی۔ 1990 میں انہوں نے عالمی سطح پر مسلم کمیونٹیز کے ساتھ بات کرتے ہوئے کشمیر کا ذکر کیا تھا۔

انہوں نے ایسے الفاظ میں خطے کا ذکر کیا جو سب کی توجہ کا مرکز بنا۔ انہوں نے کہا: "دیکھو، جہاں کہیں بھی دنیا میں مسلم برادری ہے، ان کے ساتھ دوسروں سے زیادہ سخت سلوک کیا جاتا ہے۔ کشمیر اس کی ایک مثال ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "کشمیر کے مسلمان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں" اور انہوں نے "مانگوں کو جائز" قرار دیا۔ "جو کوئی بھی جانتا ہے کہ کشمیر میں کیا ہوا ہے وہ جانتا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کا دعویٰ سچائی اور انصاف پر مبنی ہے۔ جو لوگ انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ارادے غیر منصفانہ ہیں۔ جو لوگ ان پر حملہ کرتے ہیں وہ غلط کر رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا اس سب کو بے حسی سے دیکھ رہی ہے۔"

ایسے بیانات کے باوجود، بھارت اور ایران کے درمیان تاریخی طور پر سفارتی تعلقات عملی اور تعاون پر مبنی رہے ہیں۔

ایران، جو پاکستان کے ساتھ سرحد شئیر کرتا ہے اور افغانستان اور وسطی ایشیا کی طرف تجارتی راستوں سے منسلک اسٹریٹجک مفادات کا حامل ہے، نے اکثر جنوبی ایشیائی علاقائی سیاست کی طرف متوازن نقطہ نظر اپنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر میں احتجاج: ایل جی نے سیکوریٹی صورتحال کا لیا جائزہ، وادی میں پیر کو پابندیوں کا امکان
  2. جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ
  3. آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت پر ایران کے لیے جموں میں خصوصی دعائیں