ETV Bharat / jammu-and-kashmir
آن لائن دھمکیوں سے خوفزدہ کشمیری پنڈت ملازمین کا گھر سے کام کرنے کی سہولت میں توسیع کا مطالبہ
مسلسل دھمکیوں اور ذاتی معلومات افشا ہونے کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین سیکورٹی کے حوالہ سے کافی فکر مند ہیں۔

Published : August 29, 2026 at 8:42 PM IST
|Updated : August 29, 2026 at 9:06 PM IST
سرینگر: پی ایم پیکیج کے تحت وادی میں سرکاری نوکری کر رہے کشمیری پنڈتوں نے اقلیتی ملازمین کے لیے "ورک فرام ہوم" (WFH) کی سہولت میں مزید توسیع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ پنڈت کمیونٹی کو نشانہ بنانے والی مسلسل آن لائن دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
جموں و کشمیر حکومت کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے پنڈت ملازمین کو رواں ماہ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر ایک دھمکی آمیز خط سامنے آنے کے بعد زبانی طور پر گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا تھا۔ اس آن لائن پوسٹر میں پنڈتوں کو دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی معلومات بشمول نام، فون نمبر، گھر کا پتہ، حتی کہ گلی تک کی تفصیلات اور گاڑیوں کے نمبر بھی ظاہر کیے گئے تھے۔
تاہم دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور ایک تازہ پوسٹر میں کشمیری پنڈتوں کو پھر سے دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی وادی میں کشمیری ہندوؤں کے قتل کے پرانے مقدمات کی تحقیقات دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
سال 2010 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا تھا کہ وادی میں 219 کشمیری پنڈت مارے گئے تھے۔ تاہم، سرینگر میں قائم کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے مطابق یہ تعداد 399 ہے۔
تازہ دھمکی مبینہ طور پر خود کو یونائیٹڈ لبریشن کونسل (ULC) کہنے والے ایک گروپ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ یہ دھمکی وندھامہ قتل عام کی تحقیقات دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ایجنسی SIA نے 23 کشمیری پنڈتوں کے قتل کی تحقیقات دوبارہ کھول دی ہیں قتل کیے گئے افراد میں نو خواتین اور چار بچے بھی شامل تھے۔ یہ افراد 25 جنوری 1998 کو وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں مارے گئے تھے۔
سال 2023 سے SIA نے کشمیری پنڈتوں کے قتل کے کئی پرانے مقدمات دوبارہ کھولے ہیں، جن میں ٹیکا لال ٹپلو، جسٹس نیل کنٹھ گنجو، سرلا بھٹ، کشمیری پنڈت شاعر اور دانشور سروانند کول پریمی اور ان کے بیٹے وریندر کول کے قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
تازہ دھمکی آمیز پوسٹر میں بجبہائہ، گاؤ کدل اور ہندوارہ قتل عام کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور ان واقعات کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پوسٹر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ایک ’’پہلے سے طے شدہ منصوبہ‘‘ تھا، جسے حکومت ہند نے انجام دیا، اور کمیونٹی کے بعض افراد پر اس منصوبے کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
وادی میں ’پی ایم پیکیج‘ ملازمت اسکیم کے تحت کام کرنے والے اور آل مائیگرنٹ ڈسپلیسڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے نائب صدر رنجن جوتشی نے کہا کہ تازہ دھمکی نے کشمیری پنڈت برادری میں ایک بار پھر خوف کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے کہا: "بہت سے ملازمین شوکاز نوٹس ملنے کے خدشے کے باعث اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں، لیکن کچھ ملازمین اب بھی ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تازہ دھمکی سمیت مسلسل سامنے آنے والے دھمکی آمیز خطوط نے ان میں خوف پیدا کیا ہے۔"
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے بجبہاڑہ میں واقع چھوٹا امرناتھ مندر میں ایک پروگرام کےد وران لوگوں کی شرکت خوف کی وجہ سے کم رہی۔ جوتشی نے کہا: "ہماری سب سے بڑی تشویش سکیورٹی ہے۔ دھمکی آمیز خطوط نے ہمیں خاص طور پر اس لیے پریشان کیا ہے کیونکہ ان میں نام، پتے اور فون نمبرز جیسی ذاتی معلومات ظاہر کی گئی ہیں۔ ہم کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے اپنی نقل و حرکت محدود کرنا چاہتے ہیں۔"
ان کے مطابق سڑکوں پر سفر کرنا ملازمین کے لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ان کے راستے اور دفتری اوقات مقرر ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت کا انداز آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
وادی کشمیر میں پی ایم پیکیج کے تحت کام کرنے والے تقریباً 6,000 کشمیری پنڈت ملازمین سکیورٹی کے تحت ٹرانزٹ کیمپوں میں رہتے ہیں۔ پہلے جاری ہونے والے دھمکی آمیز خطوط کے بعد ملازمین نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر دھمکیوں کے پیچھے موجود نیٹ ورک کا پتہ لگانے کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بنانے اور دیگر مطالبات کے ساتھ ورک فرام ہوم کی سہولت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
کشمیری مہاجر ملازم اور آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم اِن کشمیر کے صدر سنی رینا نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری سے ملاقات کریں گے اور وادی بھر کے پنڈت ملازمین کے لیے مکمل ورک فرام ہوم سمیت اپنے مطالبات پیش کریں گے۔
انہوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: "شمالی اور جنوبی کشمیر میں بعض محکموں نے ہمیں زبانی طور پر ورک فرام ہوم کی اجازت دی ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پوری وادی میں تمام پنڈت ملازمین کے لیے مکمل ورک فرام ہوم نافذ کیا جائے۔" رینہ نے کہا کہ وادی سے باہر رہنے والے ان کے بوڑھے والدین دھمکی آمیز پوسٹروں کے سلسلے کے نہ رکنے کی وجہ سے اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں پریشان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: "کرائے کے مکانوں میں رہنے والے ملازمین اپنی حفاظت کے حوالے سے زیادہ فکرمند ہیں۔ ان کے والدین بار بار فون کرتے ہیں کیونکہ افواہیں بھی پھیل رہی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکام 2022 سے گردش کرنے والے دھمکی آمیز خطوط کے ماخذ کا پتہ لگائیں۔" ان کے مطابق: "ملازمین کی نجی معلومات کا سامنے آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب کچھ معاشرے کے اندر سے کیا جا رہا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں:

