ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیری پنڈتوں کو نئی دہشت گردانہ دھمکیاں، حکومت کی کشمیر پالیسی پر کانگریس کی سخت تنقید
کشمیری پنڈتوں کو ملی نئی دھمکیوں پر کانگریس نے مودی حکومت کی کشمیر پالیسی اور امن کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

Published : August 24, 2026 at 1:30 PM IST
سرینگر: سوشل میڈیا پر کشمیری پنڈتوں کو دھمکی دینے والا ایک خط سامنے آیا ہے۔ یہ خط انٹرنیٹ پر کشمیر میں موجود کشمیری پنڈتوں کو نشانہ بنانے والے ایک ایسے ہی دوسرے خط کے پوسٹ کیے جانے کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔
اس خط میں جموں میں مقیم پنڈت برادری کے آدھا درجن ارکان کے نام اور ان کی ذاتی تفصیلات، یہاں تک کہ گلیوں کے نام اور گاڑیوں کے نمبر تک پبلک کر دیے گئے ہیں۔ خط میں انہیں "دہلی میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے لیے کام کرنے والے سفید پوش دہشت گرد" قرار دیا گیا ہے۔
بظاہر 'یونائیٹڈ لبریشن کونسل' (یو ایل سی) کی جانب سے جاری کردہ اس خط میں کہا گیا ہے کہ "جیسا کہ پہلے بھی خبردار کیا جا چکا ہے، آپ جہاں کہیں بھی ہوں اور جہاں کہیں بھی جائیں، ہم آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔"
رپورٹس کے مطابق سکیورٹی ایجنسیاں اس خط کی جانچ کر رہی ہیں اور اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ بہت سے کشمیری پنڈتوں نے اس خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے تاکہ انہیں درپیش خطرات کو اجاگر کیا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ خط ماضی کے برعکس ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ پہلے دہشت گردوں کے خطوط میں خاص طور پر سرکاری ملازمت کر رہے کشمیری پنڈتوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دو ہفتے قبل، بظاہر یو ایل بی کی طرف سے جاری کردہ ایک خط میں وزیرِ اعظم روزگار پیکیج کے تحت کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی ذاتی تفصیلات کو پبلک کیا گیا تھا۔
متعلقہ خبر: ’دال میں کچھ کالا ہے‘، کشمیری پنڈتوں کو ہی دھمکیاں کیوں؟ فاروق عبداللہ نے کیا تحقیقات کا مطالبہ
اس خط میں ان کشمیری پنڈتوں کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے جنہوں نے وادی کشمیر کو نہیں چھوڑا، اور کہا گیا ہے کہ "وہ محفوظ ہیں اور کوئی بھی ان کی مخالفت نہیں کرتا"۔
تاہم اس خط میں خاص طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو 90 کی دہائی میں عسکریت پسندی کے آغاز کے بعد وادی سے ہجرت کر گئے تھے۔ اس دور میں ہزاروں کشمیری پنڈت اپنے گھر بار چھوڑ کر جموں کے میدانی علاقوں اور اس سے آگے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
یہ لوگ اس وقت ملک و بیرونِ ملک تارکینِ وطن (مہاجرین) کے طور پر رہ رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ وارننگ ان لوگوں کے لیے بھی ہے "جو آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔ خط کے مطابق وہ خطرے میں ہیں کیونکہ "وہ غیر قانونی حکومت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں"۔
مزید پڑھیں: آن لائن دھمکی کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت
کشمیر میں وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت تقریباً 6,000 کشمیری پنڈت ملازمین کام کر رہے ہیں۔ یہ ملازمین مختلف سرکاری محکموں میں تعینات ہیں اور سکیورٹی کور کے تحت بنائی گئی کالونیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ پچھلے دھمکی آمیز خط کے بعد، احتیاطی تدبیر کے طور پر انہیں پانچ اگست سے 20 اگست تک گھروں میں ہی رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔
کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے کہا کہ انہوں نے وہ خط دیکھا ہے اور انہوں نے سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاستی درجہ ختم کیے جانے کے بعد حکومت کے امن و امان (حالات معمول پر ہونے) کے دعووں پر سوال اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں توقع تھی کہ بے گھر ہونے والے کشمیری پنڈتوں کو وہاں دوبارہ آباد کیا جائے گا۔ اس کے برعکس انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اب یہ صورت حال حکومت کی کشمیر پالیسی کی حقیقت بتاتی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں:
موجودہ حکومت کشمیری پنڈتوں کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے: محبوبہ مفتی
کشمیری پنڈتوں کی واپسی، رہائشی کالونی کی مانگ، ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا
کشمیری پنڈتوں کی واپسی: حکومت کا ایپکس کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ

