ETV Bharat / jammu-and-kashmir
وولر جھیل سیاحوں کے لیے کھول دی گئی، مقامی لوگوں کو روزگار بحال ہونے کی امید
وولر کے کنارے آباد بیشتر لوگوں کا روزگار وولر خاص کر سیاحتی سرگرمیوں کے ساتھ ہی منسلک ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 18, 2026 at 5:35 PM IST
|Updated : February 18, 2026 at 8:29 PM IST
بانڈی پورہ (اعجاز نازکی) : شمالی کشمیر کی معروف جھیل ’وولر‘ تقریباً دس ماہ کی طویل بندش کے بعد منگل کو دوبارہ سیاحوں کے لیے کھول دی گئی، جس پر جھیل کے اطراف آباد لوگوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقامی معیشت کے لیے نئی امید قرار دیا ہے۔ وولر جھیل سمیت درجن سے زائد سیاحتی مقامات کو پہلگام حملے کے بعد ’سیکورٹی‘ وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا تھا۔
قبل ازیں، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ’’جموں و کشمیر کے 14 سیاحتی مقامات کو مرحلہ وار انداز میں دوبارہ کھولا جائے گا۔‘‘ یاد رہے کہ گزشتہ سال پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر وولر سمیت وادی کشمیر میں بیس کے قریب سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سیاحوں کی آمد کم ہوگئی اور سیاحت سے وابستہ علاقوں کی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
وولر جھیل کے اطراف رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وولر کو دوبارہ کھولے جانے کے فیصلے سے فوری طور پر اُن خاندانوں کو راحت ملے گی جن کا گزر بسر مکمل طور پر سیاحت یا وولر جھیل پر ہی منحصر ہے۔ یہاں کے بیشتر لوگ کشتی چلا کر سیاحوں کو شکارا رائیڈ کے ذریعے یا چائے اور کھانے پینے کی اشیاء کے اسٹال، دستکاری کے مختلف آئیٹمز کی فروخت اور سیاحوں کی رہنمائی جیسے کاموں سے روزی کماتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ’’طویل بندش نے کئی خاندانوں کو شدید مالی مشکلات میں دھکیل دیا تھا، جس کے باعث کئی افراد مقروض ہو گئے وہیں بعض افراد روزگار کی تلاش میں دیہات چھوڑ کر یومیہ مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
شکارا چلانے والے فیاض احمد نامی ایک مقامی باشندے نے بتایا: ’’اعلان کے بعد لوگوں میں امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’’تقریباً ایک سال تک سیاح نہ ہونے کے برابر تھے اور آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ بھی نہیں رہا، مگر اب سیاحوں کی واپسی سے گھریلو حالات بہتر ہونے کی توقع ہے۔‘‘
جھیل کے کنارے چائے کا چھوٹا سا اسٹال چلانے والے منظور احمد نے بتایا کہ ’’سیاحت ہی مقامی معیشت کی بنیاد ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’’جھیل وولر بند ہوتے ہی آمدن اچانک ختم ہوگئی تھی، جبکہ دوبارہ کھلنے سے نہ صرف میرا بلکہ کئی دیگر لوگوں کا کاروبار بھی بحال ہوگا۔‘‘
مقامی باشندوں نے امید ظاہر کی کہ ’’حکومت جھیل کے اطراف سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور بنیادی سہولیات میں اضافہ کرنے پر بھی توجہ دے گی، تاکہ سیاحت کو مزید فروغ مل سکے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’وولر جھیل میں دیگر کئی سیاحتی مقامات کے مقابلے کہیں زیادہ امکانات موجود ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:

