ETV Bharat / jammu-and-kashmir

شیعہ ایسوسی ایشن نے کیا محرم کے لیے مخصوص بجٹ کا مطالبہ

جموں وکشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے محرم کے ایام میں عزاداروں کو نظر انداز کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔

جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کی سرینگر میں پریس کانفرنس
جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کی سرینگر میں پریس کانفرنس (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : May 6, 2026 at 8:04 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (جاوید ڈار): آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے محرم کے متربرک ایام میں شیعہ برادری کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے قبل از وقت انتظامات کو حتمی شکل دینے اور ایام عزاداری کے لیے مخصوص بجٹ منظور کیے جانے کی اپیل کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اور سابق ایم ایل اے مولوی افتخار انصاری کے برادر، عابد حسین انصاری، نے "شیعہ برادری کے ساتھ ہو رہے مسلسل اور منظم نظراندازی" کو اجاگر کیا۔

جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کی سرینگر میں پریس کانفرنس (ای ٹی وی بھارت)

انصاری نے انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور اس اہم مذہبی موقع پر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق کئی نکات پر حکومت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا: "محرم صرف ایک دن (عاشورہ) تک ہی محدود نہیں بلکہ دو مکمل مہینوں، محرم اور صفر پر محیط ہوتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "ہر سال انتظامی اقدامات بہت دیر سے شروع کیے جاتے ہیں، جس کے باعث مؤثر عمل درآمد کے لیے وقت پورا نہیں ملتا۔"

عابد انصاری نے تاخیر کو "متعلقہ اداروں کی کم فہمی" قرار دیتے ہوئے پیشگی اور بروقت منصوبہ بندی پر زور دیا۔ اس دوران انہوں نے مالی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "محرم کے لیے کوئی مخصوص بجٹ مختص نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر انتظامات مقامی سطح پر کیے جاتے ہیں اور جب منظوری مل بھی جاتی ہے تو ٹینڈرنگ کا عمل کئی ہفتوں کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے اقدامات غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔" انہوں نے حکام سے "فنڈز کو پیشگی طور پر جاری" کرنے کا مطالبہ کیا "تاکہ ضروری کام وقت پر مکمل ہو سکیں"۔

راشن کی فراہمی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ "شب عاشورہ کے انتظامات کے دوران اضافی غذائی اجناس کی درخواستیں معمول کے مطابق مسترد کر دی جاتی ہیں۔ متعلقہ حکام کوٹہ اور فنڈز کی کمی کا حوالہ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چینی، آٹا اور مٹی کے تیل جیسی بنیادی اشیاء کی فراہمی ممکن نہیں ہو پاتی۔" انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران ہزاروں افراد کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے، اس لیے یہ سہولت نہایت ضروری ہے۔

انفراسٹرکچر کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "مختلف علاقوں میں 10,000 سے 15,000 اسٹریٹ لائٹس خراب پڑی ہیں۔ گزشتہ سال جنکشنز کی تنصیب کی یقین دہانی کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔" انہوں نے محرم سے قبل فوری طور پر لائٹس کی مرمت کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے سڑکوں کی خستہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "نئی تعمیرات کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا بلکہ موجودہ سڑکوں کو کم از کم قابلِ استعمال بنایا جائے۔" انہوں نے خاص طور پر "بارہمولہ کے احمدپورہ میں عاشورہ روٹ کی خراب حالت" کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری مرمت کی اپیل کی۔

صحت کے شعبے میں تیاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "موجودہ طبی وسائل ناکافی ہیں اور جلد ختم ہو جاتے ہیں، جس کے بعد این جی اوز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔" انہوں نے اے ای ڈی مشینوں کی فراہمی، تنگ گلیوں کے لیے چھوٹی ایمبولینسز اور مناسب طبی عملے کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "امرناتھ یاترا کے ساتھ محرم کے ایام کے ٹکراؤ کی وجہ سے طبی عملہ وہاں منتقل کر دیا جاتا ہے، جس سے محرم کی مجالس متاثر ہوتی ہیں۔"

انہوں نے عوامی انفراسٹرکچر میں نمائندگی کے فقدان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ "سرینگر میں نصب سائن بورڈز میں اہم امام بارگاہوں، بشمول امام بارگاہ زڈی بل، کی نشاندہی نہیں کی گئی، جو ایک واضح نظراندازی ہے۔"

پٹن کے ہانجی وارہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ضلع وار مسائل بیان کرتے ہوئے انہوں نے بڈگام میں زیر التواء کاموں کا بھی ذکر کیا، جن میں محلہ ہردہ پنزو میں امام بارگاہ مخدم کے مسائل، امام بارگاہ اچھگام کی باؤنڈری وال اور مسجد محمدیہ سے امام بارگاہ اچھگام تک ڈرینیج لائن کی تعمیر شامل ہیں۔

سرینگر نے محسن آباد، بمنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں دعویٰ کیا کہ "گزشتہ تین برسوں سے میکڈمائزیشن زیر التواء ہے۔" انہوں نے زڈی بل میں عاشورہ روٹ کی بلیک ٹاپنگ اور حسن آباد امام بارگاہ کے اطراف اندرونی گلیوں اور ڈرینیج کی مرمت کا بھی مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور منتخب حکومت سے اپیل کی کہ محرم کے لیے ایک مخصوص بجٹ مختص کیا جائے، زمینی سطح پر متعلقہ افراد سے مشاورت کی جائے اور مئی کے آخر تک تمام انتظامات مکمل کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. 'ایران کے ساتھ یکجہتی'، کشمیر میں بعض چوراہے خامنہ ای کے نام سے منسوب
  2. کشمیر کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ایران کے لیے چندہ جمع
  3. چھوٹا امام باڑہ میں خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، آبنائے ہرمز کے ذریعے ہندوستانی بحری جہازوں کے بلا روک ٹوک گزرنے کا مطالبہ