ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں زعفران کو بچانے کیلئے کسانوں نے کی سولر پمپ لگانے کی اپیل
کشمیر میں امسال زعفران کی پیدوار کافی کم ہونے سے کسان دوسری فصلوں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

Published : February 20, 2026 at 6:55 PM IST
سرینگر: کشمیر میں زعفران کی کاشت کر رہے کسانوں نے ضلع پلوامہ کے پانپور زعفران بیلٹ میں شمسی توانائی سے چلنے والے اریگیشن پمپ نصب کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ برسوں سے ناکارہ پڑے اسپرنکلر آبپاشی نظام کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے اور زعفران کی پیداوار میں کمی کو روکا جا سکے۔
نیشنل سیفران مشن (National Saffron Mission) کے تحت سال 2008 میں زعفران کی کاشت کو فروغ دینے اور تقریباً 3715 ہیکٹر زرعی زمین کو بحال کرنے کے مقصد سے اسپرنکلر آبپاشی نظام کو قائم کیا گیا تھا۔ محکمہ زراعت نے پانپور اور بڈگام کے زعفران علاقوں میں 2548.75 ہیکٹر رقبے پر یہ نظام نصب کیا تھا جس کے لیے 400 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے 124 بورویل بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اس نظام میں ڈیزل جنریٹر کے ذریعے پانی نکال کر کھیتوں تک پہنچایا جاتا تھا تاکہ ضرورت کے وقت زعفران کے پودوں اور کورمز کی سیچائی کی جا سکے۔ تاہم اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق 124 میں سے 85 بورویل کسانوں کے حوالے کیے گئے، جن میں سے 77 مکمل طور پر بند پڑے ہیں جبکہ صرف آٹھ ہی فعال ہیں۔ حکام نے اعتراف کیا کہ زیادہ اخراجات اور دیکھ بھال کی کمی کے باعث یہ نظام غیر موثر ہو گیا۔

پانپور کے چندہارا گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کسان سجادالاکبر کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کی دو ہیکٹر زمین کی پیداوار سن 2000 میں فی ہیکٹر پانچ کلوگرام تھی جو اس سال گھٹ کر ڈیڑھ کلوگرام رہ گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بے وقت بارش اور خستہ ہال آبپاشی نظام فصل کم ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔‘‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’’شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ نصب کیے جائیں تاکہ اسپرنکلر نظام دوبارہ چل سکے۔‘‘
اسی گاؤں کے ایک اور کسان اعجاز احمد گنائی نے بتایا کہ ان کی زمین پر بھی پیداوار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل جنریٹر پر چلنے والا نظام مہنگا اور غیر عملی ثابت ہوا، جبکہ سولر پمپ کم خرچ اور کسانوں کے لیے آسان حل ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس پمپ کو ایندھن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زعفران کی فصل بنیادی طور پر بارش پر منحصر ہے اور بروقت آبپاشی نہ ہونے سے پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زعفران کی مجموعی پیداوار میں گزشتہ برسوں کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جبکہ زیر کاشت رقبہ بھی 2010 میں 5705 ہیکٹر سے کم ہو کر اب 3715 ہیکٹر رہ گیا ہے۔
پانپور کے دوسو گاؤں میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر سیفرن اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر کے سربراہ پروفیسر ایس اے ڈار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، زرعی زمین کا رہائشی علاقوں میں تبدیل ہونا، مٹی کی کھدائی اور آبپاشی کی کمی زعفران کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ملک میں زعفران کی سالانہ طلب تقریباً 80 میٹرک ٹن ہے جبکہ بڑی مقدار بیرون ملک سے درآمد کی جا رہی ہے، حالانکہ کشمیری زعفران اپنی اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی سطح پر بے حد مقبول ہے۔‘‘
پانپور کے رکن اسمبلی حسنین مسعودی نے اسمبلی میں بتایا کہ زعفران کی حقیقی پیداوار انتہائی کم ہو چکی ہے جس سے کسانوں اور تاجروں کو اندازاً 500 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق نصب کیے گئے بورویلز میں سے ایک بھی پوری طرح فعال نہیں۔

ادھر، سمبورہ پانپور کے ایک کسان جاوید احمد کا کہنا ہے کہ ’’بیج بونے کے موسم میں خشک سالی کے باعث زعفران کے کورمز کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آبپاشی نظام کو فعال بنانے پر زور دیا تاکہ خشک موسم میں فصل کو بچایا جا سکے۔
محکمہ زراعت کشمیر کے ڈائریکٹر سرتاج شاہ کے مطابق سولر پمپوں کی تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے تاہم بڑے بورویلز کے لیے اسے قابل عمل نہیں پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ، بند پڑے نظام کی مرمت کے لیے وسائل فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم بعد میں اس کے اخراجات کسانوں کو برداشت کرنا ہوں گے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کی پہچان سمجھے جانے والے زعفران کی خوشبو مزید مدھم پڑ سکتی ہے۔ وہیں بعض کسان اب زعفران کے بجائے دیگر ’کیش کراپس‘ کی جانب بھی مائل ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:

