ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پنجاب حکومت کی یقین دہانی کے بعد کشمیر کے گوشت فروشوں کی ہڑتال ختم، مویشیوں کی ترسیل دوبارہ شروع
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان سے رابطہ کرکے "غیر منصفانہ ٹیکس" کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی اپیل کی تھی۔

Published : July 3, 2026 at 2:29 PM IST
سرینگر: پنجاب حکومت کی جانب سے مویشیوں سے لدے ٹرکوں پر مبینہ غیر قانونی ٹیکس کی وصولی روکنے کی یقین دہانی کے بعد کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن (کے ایم ڈی اے) نے اپنی غیر معینہ مدت کی ہڑتال ختم کرتے ہوئے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد راجستھان، ہریانہ اور دیگر ریاستوں سے جموں و کشمیر کے لیے مویشیوں کی ترسیل ایک بار پھر بحال ہو گئی ہے۔
کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے بتایا کہ گزشتہ دو دن کے دوران پنجاب حکومت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد تمام ٹرک مالکان کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ دوبارہ جموں و کشمیر کے لیے مویشیوں کی نقل و حمل شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ پولیس اور متعلقہ ٹھیکیداروں کو سخت ہدایات جاری کریں گے تاکہ مویشیوں سے لدے ٹرکوں سے غیر قانونی ٹیکس کی وصولی فوری طور پر بند کرائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو باضابطہ تحریری احکامات بھی جاری کرے گی۔
یہ مذاکرات اس وقت ممکن ہوئے جب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگوت مان سے رابطہ کرکے اس "غیر منصفانہ ٹیکس" کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ معراج الدین گنائی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے، لیکن جموں و کشمیر حکومت کا کوئی نمائندہ ان اجلاسوں میں موجود نہیں تھا۔
واضح رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل کشمیر کے گوشت فروشوں نے راجستھان اور دیگر ریاستوں سے مویشی منگوانا بند کر دیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ پنجاب میں بعض مویشی منڈیوں کے ٹھیکیدار پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے مدھوپور اور شمبھو چیک پوسٹوں پر ہر مویشی بردار ٹرک سے 20 ہزار سے 25 ہزار روپے تک غیر قانونی طور پر وصول کر رہے تھے۔ تاجروں کے مطابق اس غیر قانونی وصولی کی وجہ سے انہیں ہر سال تقریباً 18 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ 40 سے 50 مویشیوں سے لدے ٹرک راجستھان، ہریانہ اور دیگر ریاستوں سے پنجاب کے راستے جموں و کشمیر پہنچتے ہیں۔
گوشت فروشوں کا کہنا ہے کہ پنجاب کیٹل فیئرز (ریگولیشن) ایکٹ 1967 کے تحت ریاست کے اندر مویشی منڈیوں میں ہونے والی خرید و فروخت پر 4 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، لیکن یہ قانون صرف پنجاب کے اندر ہونے والی تجارت پر لاگو ہوتا ہے۔ کشمیر کے تاجروں کا مؤقف ہے کہ چونکہ ان کے مویشی صرف پنجاب سے گزر کر جموں و کشمیر پہنچتے ہیں اور پنجاب محض ٹرانزٹ روٹ ہے، اس لیے ان سے اس ٹیکس کی وصولی غیر قانونی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امرناتھ یاترا 2026 کا آغاز، ہزاروں یاتریوں پر مشتمل پہلا جتھا مقدس گھپا کی جانب روانہ
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مویشیوں کی اس نقل و حمل پر جی ایس ٹی بھی لاگو نہیں ہوتا، اس کے باوجود ان سے مبینہ طور پر زبردستی رقم وصول کی جا رہی تھی۔ کشمیر کے گوشت فروشوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے وعدے پر عمل کرے گی اور غیر قانونی وصولیوں کے خاتمے سے مویشیوں کی ترسیل اور گوشت کی سپلائی معمول پر آ جائے گی، جس سے جموں و کشمیر میں گوشت کی قیمتوں اور دستیابی پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

