ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بچوں کی درسی کتابیں تک سیل کرنے پر ہائی کورٹ نے کی ضلع مجسٹریٹ کی سرزنش

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ انتظامیہ کی کارروائی سے ایک خاندان چھت سے محروم ہوا اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔

ا
ہائی کورٹ (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : February 23, 2026 at 5:39 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے سرینگر میں ایک مائیگرنٹ پراپرٹی کے تنازعہ میں ایک رہائشی مکان سیل کرنے کے ضلع مجسٹریٹ کے حکم کو معطل کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ ’’گھر کے اصل مالکانی حقوق بحال کیے جائیں اور اس میں موجود سامان کی فہرست تیار کرنے کے بعد چابیاں مالک کے حوالے کی جائیں۔‘‘

عدالت نے اپنے سخت الفاظ پر مشتمل فیصلے میں ایک مقامی خاندان کی مشکلات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتظامی کارروائی کے انسانی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ یہ فیصلہ جسٹس سندھوش شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نور الٰہی فکتو کی جانب سے دائر لیٹرز پیٹنٹ اپیل پر سنایا۔ فکتو، سرینگر کے پیرباغ علاقے کے رہائشی ہیں اور انہوں نے انتظامیہ کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق انہوں نے 1996 میں حیدرپورہ ریونیو اسٹیٹ میں 17 مرلہ اراضی باقاعدہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے خریدی تھی۔ بعد ازاں سرینگر میونسپل کارپوریشن سے اجازت حاصل کرکے 2004 میں رہائشی مکان تعمیر کیا، جہاں وہ دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے تک اپنے خاندان اور زیر تعلیم بچوں کے ساتھ مقیم رہے۔

یہ تنازعہ 2009 میں دائر ایک عرضی سے شروع ہوا، جس میں اشوک کمار کول نے مبینہ تجاوزات ہٹانے کی درخواست دی تھی۔ بعد میں عدالت نے انتظامیہ کو 1997 کے مہاجر غیر منقولہ جائیداد قانون کے تحت کارروائی کی ہدایت دی۔

مکان سیل، سامان اندر ہی بند
ریونیو حکام کی حد بندی کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے 2018 میں زمین کا قبضہ لینے کا حکم جاری کیا، جسے بعد میں 22 مئی 2025 کے حکم میں برقرار رکھا گیا۔ کارروائی کے دوران دو منزلہ مکان کو تالہ لگا دیا گیا جبکہ گھر کا سارا سامان، کپڑے، برتن، بستر حتیٰ کہ بچوں کی درسی کتابیں بھی اندر ہی بند رہ گئیں۔

عدالت نے اس صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ‘‘عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا‘‘ ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مکان اسی دن سیل کیا گیا جب مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔

انتظامیہ پر عدالت کے سخت ریمارکس
ڈویژن بینچ نے واضح کیا کہ ’’قانون کے تحت ضلعی مجسٹریٹ کو خود ذہنی طور پر مطمئن ہونا ضروری ہے اور وہ ماتحت اہلکاروں کی رپورٹ پر محض مہر ثبت نہیں کرسکتے۔‘‘

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مجسٹریٹ نے ایک ’’مبہم اور نامکمل رپورٹ‘‘ پر انحصار کیا جس میں زمین کے سروے نمبروں سے متعلق واضح صورتحال پیش نہیں کی گئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ’’اس سے بادی النظر میں معاملے پر مناسب غور نہ کرنے کا تاثر ملتا ہے۔‘‘

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حکم نامے میں زمین کے مقام، رقبے اور ساخت کی واضح تفصیل تک موجود نہیں تھی، حالانکہ درخواست گزار مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا کہ دونوں فریقوں کی زمینیں سڑک کے مختلف اطراف میں واقع ہیں۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ عبوری ریلیف کا مقصد حتمی فیصلے تک تنازعہ کی موجودہ حالت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے، نہ کہ ملکیت کے حق کا فیصلہ کرنا۔ عدالت کے مطابق نچلی عدالت نے اس اصول کو درست انداز میں نہیں دیکھا۔

بینچ نے آئین ہند کے آرٹیکل 21 یعنی حق زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عبوری تحفظ نہ ملنے سے خاندان اپنی رہائش سے محروم ہوا اور معمول کی زندگی شدید متاثر ہوئی۔

عدالت کے احکامات
عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کے 22 مئی 2025 کے حکم کو معطل کردیا اور بے دخلی نوٹس کو بھی ’مؤثر ہونے سے روک‘ دیا۔ اس کے علاوہ سابق صورتحال بحال رکھنے (Status Quo Ante) کا حکم بھی دیا۔ کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اور ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ ’’سامان کی فہرست تیار کرکے مکان کی چابیاں مالک کو واپس دیں۔‘‘

عدالت نے واضح کیا کہ یہ مشاہدات صرف اپیل نمٹانے تک محدود ہیں اور زیر التوا رٹ پٹیشن کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایم ایل اے مہراج ملک کی پی ایس اے نظر بندی پر فیصلہ محفوظ کر لیا
  2. نابالغ کو گاڑی چلانے دینا پڑ گیا مہنگا، والد کو تین سال قید