ETV Bharat / jammu-and-kashmir
نابالغ کو گاڑی چلانے دینا پڑ گیا مہنگا، والد کو تین سال قید
کورٹ نے واضح کیا کہ نابالغ کی جانب سے ٹریفک خلاف ورزی کی صورت میں سرپرست اور گاڑی مالک قانونی طور پر ذمہ ہیں۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 21, 2026 at 3:00 PM IST
سرینگر: سرینگر کی ٹریفک عدالت نے کم عمر بچے کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے جرم میں ضلع بڈگام کے ایک رہائشی کو تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے متعلقہ گاڑی کی رجسٹریشن بھی بارہ ماہ کے لیے منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا۔
اس مقدمے کی سماعت اسپیشل موبائل مجسٹریٹ (ٹریفک) شبیر احمد ملک نے کی۔ اپنے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 199-اے کے تحت چالان پیش کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق ٹریفک خلاف ورزی ایک کم عمر بچے نے کی تھی، جس کے باعث قانونی کارروائی بچے کے سرپرست کے خلاف عمل میں لائی گئی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ چالان کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والا نابالغ تھا، اس لیے قانون کے مطابق ذمہ داری اس کے سرپرست اور گاڑی کے مالک پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ ’’کم عمر ڈرائیورز کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سرپرست اور گاڑی کے مالک قانونی طور پر جواب دہ ہوتے ہیں۔‘‘
عدالت نے دفعہ 199-اے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ’’اگر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت کوئی جرم نابالغ کی جانب سے سرزد ہو تو اس کی ذمہ داری سرپرست یا گاڑی کے مالک پر عائد ہوتی ہے، اور اسی بنیاد پر ملزم کے خلاف کارروائی کی گئی۔‘‘
عدالت کے مطابق مقدمے میں شامل گاڑی (رجسٹریشن نمبر JK04K0673) کو قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد رجسٹرڈ مالک کے حوالے کرنے کی ہدایت دی گئی، تاہم بطور قانونی سزا اس کی رجسٹریشن ایک سال کے لیے منسوخ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے کارروائی مکمل ہونے کے بعد چالان نمٹا کر مقدمہ ریکارڈ میں محفوظ کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
یہ بھی پڑھیں:

