ETV Bharat / jammu-and-kashmir
رواں برس چری کی پیداوار کم، مانگ اور مارکیٹ بہتر
فضائی اور ریلوے نقل و حمل کا نظام بہتر ہونے سے اب یہ پھل ملک کی بڑی منڈیوں تک تیزی سے پہنچایا جا رہا ہے۔

Published : June 6, 2026 at 5:06 PM IST
|Updated : June 6, 2026 at 5:45 PM IST
اننت ناگ (میر اشفاق): وادیٔ کشمیر میں چیری فصل کی ہاروسٹنگ کا موسم اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ کشمیر کی چیری اپنے منفرد ذائقے، قدرتی مٹھاس اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے ملک بھر میں خاصی مقبولیت رکھتی ہے۔ رواں سیزن کے دوران بہتر موسمی حالات اور مناسب قیمتوں کی وجہ سے باغبانوں کو اچھی خاصی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔
ماضی میں کشمیری چیری کی فروخت زیادہ تر مقامی منڈیوں تک محدود تھی، تاہم گذشتہ چند برسوں کے دوران فضائی اور ریلوے نقل و حمل کے نظام میں نمایاں بہتری آنے کے بعد اب یہ پھل ملک کی بڑی منڈیوں تک تیزی سے پہنچایا جا رہا ہے۔
اننت ناگ کے رہنے والے چیری کے تاجر محمد اظہر ٹاک نے کہا کہ چیری اب مقامی مارکیٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ ہوائی اور ریلوے رسائی کی وجہ سے اب چیری دہلی، ممبئی،احمد آباد ، بنگلورو، کولکتہ اور دیگر بڑے شہروں میں کشمیری چیری کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے چیری کا مارکیٹ کافی اچھا ہے اور کسانوں کو معقول قیمتیں مل رہی ہیں۔ اظہر نے کہا کہ رواں برس سیب کی طرح چری کی فصل کافی کم ہے تاہم مانگ اور مارکیٹ بہت بہتر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات کی بدولت چیری کم وقت میں منڈیوں تک پہنچ رہی ہے، جس سے پھل کی تازگی برقرار رہتی ہے اور باغبانوں کو بہتر قیمتیں حاصل ہو رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اس سال چیری کے نرخوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے کاشتکاروں کی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔
ان کے مطابق چیری کی تجارت میں وسعت نہ صرف باغبانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے بلکہ وادی کے باغبانی شعبے کو بھی نئی تقویت مل رہی ہے۔ چیری کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ویلیو کشمیر کی معیشت میں باغبانی کے کردار کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔
محکمہ ہارٹیکلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ کے ایریا مارکیٹنگ منیجر مشتاق احمد نے کہا کہ اننت ناگ میں چیری کی پیداوار کم۔ہونے کے سبب یہاں کی مقامی منڈیوں میں اس کی رسائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بڈگام میں چیری کی سب سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے، لوگ اب بذریعہ ریل اور ہوائی جہاں ملک کی مختلف منڈیوں تک چیری پہنچانے ہیں جس میں محکمہ ان کی بھرپور مدد کرتا ہے اور کسانوں کو معقول آمدنی حاصل ہوتی ہے

مزید پڑھیں: خراب موسم سے پیداوار متاثر ہونے کے باوجود کشمیری چیری کی مانگ برقرار
باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور مارکیٹنگ کی مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو کشمیری چیری بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر چیری کا موجودہ سیزن وادی کشمیر کے باغبانی شعبے کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو رہا ہے اور اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: بھدرواہ میں آج سے دو روزہ لیوینڈر فیسٹیول کا آغاز، فیسٹیول کا تھیم "لیوینڈر گوز گلوبل" کے تحت انعقاد

