ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے، مرکز اپنا وعدہ پورا کرے: کرن سنگھ
ڈاکٹر کرن سنگھ نے ریاستی درجے کی بحالی، بین المذاہب ہم آہنگی، مستقل مکالمہ مرکز کے قیام اور اردو زبان کے فروغ پر زور دیا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : June 27, 2026 at 2:42 PM IST
|Updated : June 27, 2026 at 4:29 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کے سابق صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "مرکزی حکومت کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔" سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) میں بین المذاہب مکالمے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کرن سنگھ نے کہا کہ "مرکزی حکومت پہلے ہی ریاستی درجے کی بحالی کا یقین دلا چکی ہے۔"
انہوں نے کہا: "میرا ماننا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے۔ حکومت نے بھی اس کا وعدہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ وعدہ پورا کیا جانا چاہیے۔" ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ملک میں ایک منفرد آئینی حیثیت حاصل رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان بات چیت کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین المذاہب مکالمے کا مقصد کسی ایک مذہب کی برتری ثابت کرنا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور احترام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا: "بین المذاہب مکالمے کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں، ایک دوسرے کو سمجھیں اور باہمی احترام کو مضبوط کریں۔ خاص طور پر کشمیر میں اس طرح کی کوششیں بہت اہم ہیں۔"
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرن سنگھ نے کشمیر کو "ہندوستان کا تاج" قرار دیا اور تقسیم ہند کے دوران مہاتما گاندھی کے اس بیان کو یاد کیا کہ اس مشکل دور میں اگر انہیں کہیں امید کی کرن نظر آتی تھی تو وہ کشمیر تھا۔
انہوں نے کہا: "گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر ان مشکل حالات میں انہیں کہیں روشنی اور امید کی کرن دکھائی دیتی تھی تو وہ کشمیر تھا۔ اس کی وجہ کشمیر کی صدیوں پرانی مذہبی ہم آہنگی کی روایت تھی۔" کرن سنگھ نے کہا کہ "کشمیر تاریخی طور پر مختلف مذاہب، فلسفوں اور تہذیبوں کا سنگم رہا ہے، جس نے اسے ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی علامت بنایا ہے۔"
انہوں نے کہا: "یہ شاسترارتھ یعنی مذہبی مناظرہ نہیں ہے۔ ہر مذہب کی اپنی تعلیمات اور اقدار ہیں۔ مقصد ایک دوسرے کو سمجھنا اور ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہے۔" رگ وید کے مشہور قول "ایکم ست، وپرا بہودھا ودنتی" کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت ایک ہی ہے، اگرچہ اسے بیان کرنے کے طریقے مختلف ہیں، اور تمام مذاہب آخرکار ایک ہی خدا کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
کرن سنگھ نے کشمیر کی روحانی روایت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ویدک روایات، بدھ مت، کشمیری شیو مت، لل دید کی تعلیمات اور صوفی بزرگوں خاص کر شاہِ ہمدان اور شیخ نورالدین نورانی (رحمھما اللہ تعالیٰ) کی خدمات کو وادی کی مشترکہ تہذیب کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا: "دنیا کو نفرت نہیں بلکہ محبت کی ضرورت ہے۔ ہم مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں، مختلف زبانیں بولتے ہوں، لیکن سب سے پہلے ہم انسان ہیں۔"
انہوں نے کشمیر میں مستقل بین المذاہب مکالمہ مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان بات چیت کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے اور خطے کی پُرامن بقائے باہمی کی روایت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اردو زبان کو فروغ
کرن سنگھ نے اردو زبان کے فروغ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان ہی میں پیدا ہوئی ہے، یہ کوئی غیر ملکی زبان نہیں، اس لیے اسے محفوظ رکھا جائے، فروغ دیا جائے اور جہاں ممکن ہو استعمال کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ مختلف مذاہب، زبانوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ امن کے ساتھ مل جل کر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وادی آئندہ بھی مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی تنوع اور قومی اتحاد کی مثال بنی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
بھارت نے کبھی کسی پر مذہب مسلط نہیں کیا: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا

