ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بینک لاکر سے زیورات نکالنے کا معاملہ؛ مجسٹریٹ کے ایف آئی آر کا حکم سرینگر کورٹ نے کیا کالعدم

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر کے لیے مطلوبہ قانونی مراحل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ا
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : August 11, 2026 at 2:36 PM IST

8 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: سرینگر کی ایک عدالت نے پیر کو مجسٹریٹ کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس میں مشترکہ بینک لاکر سے زیورات نکالنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ شکایت کنندہ نے ایف آئی آر کے لیے قانون میں مقرر لازمی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج فاروق احمد بٹ نے اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ صرف کسی شکایت میں قابل دست اندازی پولیس جرم کا الزام لگائے جانے سے مجسٹریٹ کو خود بخود تحقیقات کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوجاتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ شکایت کنندہ کو پہلے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سے رجوع کرنا ہوگا اور اس کے بعد بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS)، 2023 کی دفعہ 175(3) کے تحت درخواست دینے کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

عدالت نے کہا کہ "قابل دست اندازی جرم کا وجود اور دفعہ 175(3) کے تحت تحقیقات کا حکم دینے کا عدالتی اختیار، دو الگ معاملات ہیں۔ قانون میں مقرر طریقہ کار کو نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے، نہ کمزور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے محض رسمی کارروائی سمجھا جاسکتا ہے۔"
50 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسیر الطاف حقانی کی جانب سے دائر مجرمانہ نظرثانی درخواست پر سنایا گیا۔ عدالت نے سرینگر کے سٹی مجسٹریٹ کا 11 مئی کا حکم منسوخ کردیا، جس میں پولیس کو حقانی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 316 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ دفعہ مجرمانہ طور پر امانت میں خیانت سے متعلق ہے۔

زیورات کا معاملہ کیا تھا؟
یہ معاملہ محمودہ فاروقی کی شکایت سے شروع ہوا تھا۔ شکایت کنندہ، بسما فاروقی کی والدہ ہیں اور معاملہ ان کی دختر کے زیورات سے متعلق تھا۔ شکایت کے مطابق بسما کی شادی 17 اگست 2022 کو سرینگر میں جسیر الطاف حقانی کے ساتھ ہوئی تھی اور بعد میں وہ واپس امریکہ چلی گئی تھیں۔ ان کے شادی کے زیورات سرینگر میں ہی رہ گئے تھے، جنہیں جموں و کشمیر بینک کی ہائی کورٹ برانچ میں بسما اور جسیر حقانی کے نام سے مشترکہ سیف ڈیپازٹ لاکر میں رکھا گیا تھا۔

فاروقی نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا 'استری دھن' کہلانے والے تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کے زیورات کو حفاظت کے لیے لاکر میں رکھا گیا تھا۔ شکایت کے مطابق بسما کی غیر موجودگی میں حقانی کو لاکر چلانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن یہ اختیار صرف بسما کے فائدے کے لیے تھا۔ الزام ہے کہ بعد میں حقانی نے بسما کی اطلاع یا رضامندی کے بغیر لاکر کھولا اور زیورات نکال لیے۔

شکایت میں چوری، مجرمانہ خیانت اور مجرمانہ سازش سمیت مختلف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ بینک کے لاکر ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے مبینہ طور پر زیورات نکالنے کا معاملہ واضح ہوجائے گا۔

حقانی نے ان الزامات سے انکار کیا۔ ان کے دفاع میں کہا گیا کہ لاکر ’’Either or Survivor‘‘ انتظام کے تحت مشترکہ طور پر چلایا جاتا تھا اور دونوں کھاتہ داروں کو اسے چلانے کا اختیار حاصل تھا۔ انہوں نے اس بات سے بھی اختلاف کیا کہ کوئی تحریری پاور آف اٹارنی موجود تھی، جس کے تحت انہیں صرف بسما کے فائدے کے لیے لاکر چلانے کا اختیار دیا گیا ہو۔

پولیس کی ابتدائی انکوائری میں بینک کے ریکارڈ میں ایسی کوئی تحریری پاور آف اٹارنی نہیں ملی۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لاکر چلانے کی ہدایات مشترکہ ’’Either or Survivor‘‘ انتظام کے مطابق تھیں۔

پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مجسٹریٹ کے سامنے پہنچا۔ مجسٹریٹ نے ابتدائی مرحلے میں چوری کے الزام کو تسلیم نہیں کیا، تاہم یہ قرار دیا کہ الزامات سے BNS کی دفعہ 316 کے تحت مجرمانہ خیانت کا معاملہ بادی النظر میں سامنے آتا ہے۔

11 مئی کو مجسٹریٹ نے شہید گنج پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو حقانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔ مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ ابتدا میں حقانی کے خلاف دفعہ 316 BNS کے تحت کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے دوران اگر دیگر نامزد افراد کا کردار سامنے آئے تو پولیس ان کے خلاف بھی کارروائی کرسکتی ہے۔ تاہم حقانی نے اس حکم کو سیشن عدالت میں چیلنج کیا۔

عدالت کے سامنے اصل سوال
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں تھا کہ الزامات آخرکار جرم ثابت کرتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ کیا ان حالات میں مجسٹریٹ کو ایف آئی آر درج کرنے کا قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں؟ BNSS کی دفعہ 173 کے تحت قابل دست اندازی جرم سے متعلق اطلاع سب سے پہلے پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر کو دی جاتی ہے۔

اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے تو BNSS کی دفعہ 173(4) کے تحت شکایت کنندہ پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔ اس کے بعد دفعہ 175(3) کے تحت مجسٹریٹ تحقیقات کا حکم دینے سے متعلق درخواست پر غور کرسکتا ہے، لیکن اس کے لیے قانون میں مقرر حفاظتی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔

سیشن عدالت نے پایا کہ شکایت کنندہ نے اس پورے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کا ثبوت پیش نہیں کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مجسٹریٹ کے سامنے نہ تو ایس پی کو بھیجی گئی درخواست کی نقل پیش کی گئی اور نہ ہی ایسی درخواست ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے کی رسید موجود تھی۔

عدالت نے BNSS کی حالیہ تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں قانونی طریقہ کار کو مرحلہ وار قرار دیا گیا ہے۔ سیشن عدالت نے کہا کہ یہ شرط محض رسمی کارروائی نہیں ہے۔ صرف اس بنیاد پر کہ مجسٹریٹ کے سامنے بادی النظر میں قابل دست اندازی جرم کے الزامات رکھے گئے ہیں، مجسٹریٹ اپنے اختیار کو ازخود استعمال نہیں کرسکتا۔

حلف نامے کی خامیاں
عدالت نے شکایت کے ساتھ جمع کرائے گئے حلف نامے میں بھی خامیاں پائیں۔ BNSS کے تحت دفعہ 175(3) کی درخواست کے ساتھ ایسا حلف نامہ ہونا ضروری ہے جو دفعہ 173(4) کے تحت ایس پی کو دی گئی درخواست سے متعلق ہو۔ سیشن عدالت نے پایا کہ ایس پی کو دی گئی مطلوبہ درخواست ریکارڈ پر موجود ہی نہیں تھی۔

زیورات اور پاور آف اٹارنی پر بھی سوال
سیشن عدالت نے صرف قانونی طریقہ کار ہی نہیں بلکہ مجسٹریٹ کی جانب سے الزامات کا جائزہ لینے میں بھی خامیاں نوٹ کیں۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مبینہ تحریری پاور آف اٹارنی بینک کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق مجسٹریٹ نے یہ اہم پہلو مناسب طور پر زیرِ غور نہیں لایا اور اس کے باوجود بادی النظر میں مجرمانہ خیانت کا جرم بننے کا نتیجہ اخذ کیا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شکایت بسما کی والدہ نے دائر کی تھی، حالانکہ زیورات مبینہ طور پر بسما کے حوالے کیے گئے تھے۔

ایف آئی آر کا حکم ختم
سیشن عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ مجسٹریٹ نے معاملے کے بنیادی پہلوؤں کو نظرانداز کیا اور اپنے قانونی اختیار کا درست طریقے سے استعمال نہیں کیا۔

چنانچہ عدالت نے حقانی کی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے 11 مئی کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم منسوخ کردیا۔

جھوٹی گواہی سے متعلق درخواست بھی زیرِ غور
حقانی نے محمودہ فاروقی کے خلاف مبینہ جھوٹی گواہی سے متعلق BNSS کے تحت کارروائی شروع کرنے کی الگ درخواست بھی دائر کی تھی۔ سیشن عدالت نے اس درخواست پر خود فیصلہ کرنے کے بجائے اسے متعلقہ ریکارڈ سمیت ٹرائل مجسٹریٹ کو مناسب حکم کے لیے بھیج دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر حقانی اس قانونی راستے کو آگے بڑھانا چاہیں تو وہ ٹرائل مجسٹریٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

ذاکر نائیک کا حوالہ، کرایے کا تنازع؛ ہائی کورٹ نے وِژن اسکول کی ایف آئی آر خارج کردی