ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں میں صحافی کا مکان کیا گیا منہدم، بی جے پی لیڈر نے کہا ’انہدامی کارروائی جانبدارانہ‘

صحافی عرفاز احمد ڈینگ کے مطابق ان کا گھر مسمار کرنے سے قبل انہیں کوئی بھی پیشگی نوٹس ارسال نہیں کی گئی۔

صحافی کا کہنا ہے کہ وہ قریب چار دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر ہے
صحافی کا کہنا ہے کہ وہ قریب چار دہائیوں سے یہاں رہائش پذیر ہے (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : November 27, 2025 at 7:03 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں (محمد اشرف گنائی) : جموں کے نروال علاقے میں ’’سحر انڈیا‘‘ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے وابستہ صحافی عرفاز احمد ڈینگ کا رہائشی مکان جمعرات کی صبح جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ضلع انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے زمین بوس کر دیا۔ صحافی کے مطابق یہ کارروائی انہیں خاموش کرنے اور سچ بولنے کی سزا دینے کے لیے کی گئی۔

انہدامی کارروائی کے بعد کئی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اسے ’انتقام گیری‘ سے تعبیر کرتے ہوئے سخت مخالفت کی۔ وہیں بعض کارکنان و لیڈران نے موقع پر جاکر عرفاز ڈینگ ڈھارس بندھائی اور انتظامیہ کی کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکنان کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے، جنہوں نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے ’’جمہوری اقدار پر حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔

صحافی کا مکان گرائے جانے پر بی جے پی رہنما کا رد عمل (ای ٹی وی بھارت)

عرفاز احمد ڈینگ نے ای ٹہ وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ 40 برسوں سے اپنے والدین کے ساتھ اسی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’صبح سویرے بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے جے سی بی مشینوں کے ساتھ آئے اور ہمیں گھر کا سامان نکالنے کا بھی موقع نہیں دیا۔‘‘ عرفاز کے مطابق ’’محض چند منٹوں میں ہی ہمارے گھر کو مسمار کر دیا گیا۔ یہ میرے خلاف انتقامی کارروائی ہے کیونکہ میں صحافت کے ذریعے سچ سامنے لاتا ہوں۔‘‘

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما تنویر احمد تانترے نے موقع پر پہنچ کر انتظامیہ سمیت عمر عبداللہ حکومت کی سخت سرزنش کررتے ہوئے اسے ’سراسر ظلم‘ سے تعبیر کیا۔ ای ٹی وی بھارت بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے تانترے نے کہا: ’’یہ چن کر کی گئی انہدامی کارروائی ہے جس کا مقصد سچ بولنے والوں کو خاموش کرنا ہے۔‘‘

عرفان ڈینگ نے بھی اسے ’سچ بولنے کی سزا‘ قرار دیا ہے۔ تانترے کے مطابق: ’’ایک صحافی کے گھر کو اس طرح گرانا، آئین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘

ادھر، متاثرین غم سے نڈھال ہیں اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’انتظامیہ نے بنا کسی پیشگی نوٹس کے ہی کارروائی کی‘‘ اور ان کا مکان منہدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گھر میں موجود سامان کو بھی باہر نہیں نکال پائے۔ ادھر، حکام کی جانب سے ابھی تک اس سلسلے میں باضابطہ طور کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

’غیر اعلانیہ‘ انہدامی کارروائی پر ایم ایل اے لنگیٹ نے کیا احتجاج

پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ سے وابستہ کشمیری عسکریت پسند کا مکان منہدم