ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں کشمیر کانگریس کا ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کاشتکاروں تک پہنچنے کا اعلان
جموں کشمیر کانگریس کا کہنا نے کہ ہند امریکہ تجارتی معاہدے سے جموں و کشمیر بری طرح متاثر ہوگا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 26, 2026 at 4:36 PM IST
جموں (عامر تانترے): جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے آج ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت نوٹ لیتے ہوئے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کے مفادات کے لیے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔
اس سلسلے میں جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز میں کانگریس کے قانون سازوں، سابق وزراء، سینئر لیڈروں، ضلعی صدور اور دیگر کی میٹنگ طلب کی گئی اور اس معاہدے سے جموں و کشمیر کے کاشتکاروں پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
تجارتی معاہدے کے اثرات پر تفصیلی بحث کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر باغبانی والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے کاشتکار تباہ ہو جائیں گے۔
میٹنگ کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی سی کے صدر طارق حمید قرہ نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد فروری کو نئی دہلی میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جموں و کشمیر سمیت سات ریاستوں کی میٹنگ بلائی، جس میں اس ڈیل کے اثرات کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔
قرہ نے مزید کہا کہ، "اس معاہدے کے اثرات کے بارے میں لوگوں، خاص طور پر کاشتکاروں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک تکنیکی چیز ہے جس کے بارے میں عام آدمی نہیں جانتا ہے لیکن کاشتکار اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، اس موضوع پر ہم نے یہاں ایک میٹنگ بلائی اور کئی لیڈروں نے اس کے بارے میں بات کی۔"
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ "ہم ہر ضلع کا دورہ کریں گے، جہاں مختلف قسمیں اگائی جاتی ہیں جیسے کہ چند ضلعوں میں سیب، کچھ میں اخروٹ، کچھ جگہوں پر زعفران، کچھ علاقوں میں باسمتی اور دیگر چیزیں۔ ہم زراعت، باغبانی اور ماہی پروری کے شعبوں کے کاشتکاروں سے ملنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام معلوماتی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کانگریس پارٹی بھی احتجاج کے موڈ میں آسکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ہندوستان کی فلسطین حامی پالیسی ہے اور ہندوستان کی اس پالیسی کی چیمپئن سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ، کانگریس اس پالیسی کو بدلنے نہیں دے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔"
"بھارت کی فلپ فلاپ پالیسی ہر پہلو سے نقصان دہ رہی ہے۔ یہ فلپ فلاپ پالیسی صرف فلسطین اور جنوب مشرقی ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ سارک کے ساتھ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ، ہماری خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر جواب دیتے ہوئے، قرہ نے کہا، "ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ انسانی حقوق اور ان مسائل پر بات کر رہے ہیں جن پر ہماری فلسطین حامی پالیسی کی بنیاد ہے، اور ان پیرامیٹرز پر جن پر اندرا گاندھی اور یاسر عرفات نے تعلقات کو آگے بڑھایا تھا۔"
یہ بھی پڑھین:

