ETV Bharat / jammu-and-kashmir
رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدی اور سابق میئر سرینگر جنید عظیم متو پر 'گمراہ کن مواد' کے الزام میں مقدمہ درج
رکن پارلیمنٹ کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے قتل کی مذمت کرنے اور سچ بولنے پر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Published : March 4, 2026 at 7:29 AM IST
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی اور سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم متو کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر جھوٹا اور 'گمراہ کن مواد' پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس سے امن عامہ کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ 'ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن مواد پھیلانے سے متعلق مبینہ 'معتبر جانکاری' کے بعد سرینگر کے سائبر پولیس اسٹیشن میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان مواد کا مقصد "خوف پیدا کرنا، امن عامہ کو خراب کرنا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے لوگوں کو اکسانا" ہے۔
پولیس نے کہا کہ جس مواد کے لیے آغا روح اللہ مہدی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، وہ "پہلی نظر میں مسخ شدہ بیانیے اور غیر تصدیق شدہ جانکاری کی تشہیر کی عکاسی کرتا ہے جو عوامی بدامنی اور سماجی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے"۔
سرینگر میں پولیس نے مزید کہا کہ "غلط معلومات پھیلانے کی اس طرح کی جان بوجھ کر کی گئی کوششیں امن، سلامتی اور مجموعی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔"
دونوں سیاسی لیڈروں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات جیسے کہ 197(1)(d) اور 353(1)(b) کے تحت دو الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
متعلقہ خبر: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر غم وغصہ: دیکھیے کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ "دونوں کیسز کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔" پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہ وہ مواد کو آن لائن شیئر کرنے سے پہلے سرکاری اور معتبر ذرائع سے جانکاری کی تصدیق کریں اور "غیر تصدیق شدہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا امن عامہ کو متاثر کر سکتا ہے۔" پولیس نے کہا کہ اس سلسلے میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
یہ مقدمات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے خلاف وادی میں احتجاج کے درمیان درج کیے گئے ہیں۔ منگل کو سرینگر اور وادی کے کچھ حصوں میں مظاہروں کو روکنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔ انٹرنیٹ پر جزوی بندشیں لگائی گئیں، احتیاطی اقدامات کے طور پر تعلیمی ادارے سات مارچ تک بند کر دیے گئے۔
اپنے جواب میں مہدی نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "وہی انتظامیہ جو ایک خودمختار قوم کے رہنما کو شہید کرنے کی مذمت کرنے کی ہمت نہیں پاتی ہے اور اب اس میں ایسا کرنے والے شخص کو سزا دینے کی ہمت آ گئی ہے"۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل کانفرنس نے خامنہ ای کے قتل پر ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قرارداد منظور کی
انہوں نے ایکس پر پولیس کا بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سرینگر کے لوگوں نے انہیں حکومت سے منظور شدہ تعزیت کے لیے منتخب نہیں کیا۔ "انہوں نے انہیں سچ بولنے کے لیے منتخب کیا۔ یہ مینڈیٹ ایف آئی آر سے ختم نہیں ہوتا۔"
وہیں سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم متو نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے بارے میں ان کے بیانات اور خامنہ ای کے قتل اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی اخلاقی دستبرداری کے خلاف بولنے پر ان کی سکیورٹی کو واپس لے لیا گیا ہے۔
"آپ کو انتظامیہ اور پولیس کی تعریف کرتے ہوئے سوگواروں کے لیے تعزیتی بیانات جاری کرنے ہوں گے۔ معذرت کے ساتھ میں ایسا کوئی بھی کام نہیں کر سکتا۔" سابق میئر نے مزید کہا۔
مزید پڑھیں: 'جنگل راج': ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ کا خامنہ ای کے قتل پر ردِعمل
کشمیر، ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے دوسرے روز بھی پابندیاں عائد

