ETV Bharat / jammu-and-kashmir
اسلامک یونیورسٹی کے وی سی اور رجسٹرار کے خلاف وارنٹ پر روک، ٹریبونل کو اصل کیس کا فیصلہ کرنے کی ہدایت
عدالت نے توہینِ عدالت کی مزید کارروائی پر اسٹے لگاتے ہوئے ٹریبونل کو ہدایت دی کہ وہ بنیادی مقدمے پر کا حتمی فیصلہ کرے۔

Published : August 6, 2026 at 7:55 AM IST
|Updated : August 6, 2026 at 11:07 AM IST
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے بدھ کے روز سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) سرینگر بینچ کی جانب سے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) کے وائس چانسلر پروفیسر شکیل احمد رومشو اور رجسٹرار شمیم احمد شاہ کے خلاف جاری کی گئی ناقابلِ ضمانت وارنٹ اور توہینِ عدالت کی کارروائی پر روک لگا دی۔
قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویژن بینچ کی جانب سے جاری کردہ ایک صفحے کے عبوری حکم نامے میں، ہائی کورٹ نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کر کے ٹریبونل سے ریکارڈ طلب کیا اور معاملے کی سماعت کے لیے سات ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی۔
عدالت نے ہدایت دی کہ "اس دوران، توہینِ عدالت کی مزید کارروائی پر اسٹے رہے گا، تاہم، ٹریبونل کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اصل درخواست/بنیادی مقدمے پر غور کرے اور اس کا حتمی فیصلہ کرے۔"
یہ حکم نامہ مدعا علیہ ڈاکٹر عمران کے وکیل کی جانب سے عدالت کے سامنے نوٹس قبول کرنے کے بعد سامنے آیا، جس سے رسمی نوٹس بھیجنے کی ضرورت ختم ہو گئی۔ ہائی کورٹ نے یہ ہدایت بھی دی کہ اگلی سماعت سے پہلے ٹریبونل سے ریکارڈ طلب کیا جائے۔
سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے احکامات
ہائی کورٹ کی یہ مداخلت سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کی سرینگر بنچ کے اس حکم کے اگلے ہی دن سامنے آئی جب اس نے توہینِ عدالت کی ایک درخواست پر اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا۔ ٹریبونل کا موقف تھا کہ وہ ڈاکٹر عمران کی طرف سے دائر کردہ سروس معاملے میں اس کی ہدایات پر عمل درآمد کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔
اپنے چھ صفحات پر مشتمل حکم نامے میں، ٹریبونل نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، پولیس ڈسٹرکٹ اونتی پورہ کو ہدایت دی کہ وہ ان وارنٹس کی تعمیل کروائیں اور دونوں عہدیداروں کو چھ اگست 2026 کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔
ٹریبونل نے یہ نوٹ کیا کہ آن لائن پیش ہونے کی اجازت، ضمانتی وارنٹ کا اجراء اور ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایات سمیت بارہا مواقع دیے جانے کے باوجود یونیورسٹی حکام اس کے احکامات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: جموں کشمیر، 145 کانسٹیبل آپریٹرز بھرتی کیس، ہائی کورٹ نے توہینِ عدالت کی درخواستیں نمٹا دیں
انتظامی مجبوریوں کی بنیاد پر ذاتی پیشی سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے دی گئی ان کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل نے کہا کہ "مذکورہ بالا درخواستوں کے مندرجات کا جائزہ لینے سے، جن کے ذریعے استثنیٰ مانگا گیا ہے، بظاہر یہ نیک نیتی پر مبنی معلوم نہیں ہوتیں، کیونکہ عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنے کی انتظامی مجبوریوں کے سوا کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔"
بینچ نے مزید ریمارکس دیے کہ "توہینِ عدالت کے مرتکب افراد کے مسلسل رویے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف عدالتی احکامات کی تعمیل میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں... انہوں نے جان بوجھ کر ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔"
اس طرزِ عمل کو عدالتی احکامات کی دانستہ خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ٹریبونل نے کہا کہ "ان کا یہ رویہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے لیے ارادتاً اختیار کیا گیا ہے۔"
ٹریبونل نے متنبہ کیا کہ عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ "عدالت کو صرف اپنے احکامات کی تعمیل میں تاخیر کرنے کے لیے یرغمال بنایا گیا ہے۔ ہم افسوس کے ساتھ یہ نوٹ کرتے ہیں کہ موجودہ کیس میں صورت حال تعمیل کے بالکل برعکس ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر برقرار اور محفوظ رکھنا ہوگا، کیونکہ آئین کی بنیاد ہی قانون کی حکمرانی پر ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: 'وارنٹ پر عمل نہ کرنے کا پولیس افسر کو اختیار نہیں': ایس ایس پی سرینگر کے خلاف 'سو موٹو' کارروائی
سخت تادیبی کارروائی کی ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے ٹریبونل نے کہا کہ توہینِ عدالت کے اختیارات کا استعمال بہت کم اور احتیاط سے کیا جاتا ہے، لیکن عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے "بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جہاں انتہائی سخت اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو جاتا ہے"۔
اس سے قبل کارروائی کے دوران، اضافی وقت دیتے ہوئے بینچ نے ریمارکس دیے کہ "ہمیں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ہے اور عدالتوں پر عوام کے اعتماد اور یقین کا تحفظ کرنا ہے، ورنہ عدالتی احکامات مذاق بن کر رہ جائیں گے۔" توہینِ عدالت کی یہ کارروائی ڈاکٹر عمران کی طرف سے دائر کردہ 'اصل درخواست' نمبر 552/2026 سے شروع ہوئی ہے۔
اصل کیس کیا ہے؟
ڈاکٹر عمران، جو 'لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس' میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں اور اس سے قبل یونیورسٹی آف کشمیر میں مستقل اسسٹنٹ لائبریرین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، انہوں نے سال 2024 کے ایک بھرتی اشتہار کے تحت اسلامک یونیورسٹی (آئی یو ایس ٹی) میں لائبریرین کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی۔
اگرچہ یونیورسٹی کی سلیکشن کمیٹی نے ان کا انتخاب کیا اور جنوری سال 2025 میں ان کی تقرری کر دی گئی، تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے تقرری آرڈر میں اس عہدے کو مستقل کے بجائے غلط طریقے سے کنٹریکٹ یا مقررہ مدت کے طور پر ظاہر کیا گیا، جب کہ اسی بھرتی کے عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے دیگر امیدواروں کو مستقل بنیادوں پر مقرر کیا گیا۔
30 مئی کو ٹریبونل سے رجوع کرتے ہوئے، ڈاکٹر عمران نے دلیل دی کہ یونیورسٹی بھرتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد مشتہر کردہ اسامی کی نوعیت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ بھرتی کی شرائط کو اس طرح تبدیل نہیں کیا جا سکتا جو منتخب امیدوار کے لیے نقصان دہ ہو۔
بظاہر معاملے کو ٹھوس پاتے ہوئے ٹریبونل نے دو جون کو یونیورسٹی حکام سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ اگلے احکامات تک لائبریرین کے طور پر ڈاکٹر عمران کے موجودہ عہدے اور حیثیت کو برقرار رکھیں۔ ٹریبونل کے مطابق، اس کی ان ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں توہینِ عدالت کی کارروائی شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے کئی احکامات جاری کیے گئے، یہاں تک کہ بالآخر عدالت کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے پڑے۔ فی الحال ہائی کورٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ اور توہین عدالت کیس کی کارروائی پر روک لگا دی ہے اور اصل کیس یعنی ڈاکٹر عمران کی تقرری اور ان کے عہدے کی نوعیت پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مزید پڑھیں:

