ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں اغوا و قتل کیس: ہائی کورٹ نے مرکزی ملزم کی ضمانت کی مسترد
عدالت نے نوٹ کیا کہ ابتدائی طور پر ملزمان کے خلاف شواہد موجود ہیں اور معاملے کی سنگیتی کے پیش ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 23, 2026 at 7:07 PM IST
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے بری برہمنہ، جموں کے 2022 کے اغوا اور قتل کے ایک سنسنی خیز مقدمے میں مرکزی ملزم مراد علی عرف چوچو اور اس کے دیگر ساتھیوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس رجنیش اوسوال نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ’’ملزمان کے خلاف شواہد کی مکمل عدم موجودگی نہیں ہے اور مقدمے کی نوعیت انتہائی سنگین ہے، اس لیے اس مرحلے پر انہیں ضمانت دینا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘
یہ مقدمہ بری برہمنہ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 187/2022 سے متعلق ہے، جس میں قتل، اقدام قتل، اغوا، فساد اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات شامل ہیں۔ کیس اس وقت ضلع سانبہ کی پرنسپل سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے۔
استغاثہ کے مطابق 3 اکتوبر 2022 کو ذاکر حسین اور ان کے ساتھی ایک تقریب سے واپس لوٹ رہے تھے کہ صنعتی علاقے کے قریب کئی افراد نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ الزام ہے کہ حملہ آوروں نے لوہے کی سلاخوں، ڈنڈوں اور تیز دھار شئی سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ذاکر حسین شدید زخمی ہوئے اور بعد میں امرتسر کے اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے، جبکہ بشیر احمد شدید زخمی ہوئے۔
ملزمان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اب تک پیش ہونے والے عینی شاہدین نے انہیں قتل سے براہ راست نہیں جوڑا اور وہ ڈھائی سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ درجنوں گواہوں میں سے اب تک چند ہی کے بیانات قلم بند ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ سنگین نوعیت کا ہے اور کئی ملزمان مفرور ہیں اور جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید تک کی سزا ممکن ہے۔
عینی شاہدین کے بیانات
عدالت نے زخمی عینی شاہد بشیر احمد سمیت اہم گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا، جن میں ملزمان پر حملے میں براہ راست ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ گواہوں کے مطابق متاثرین کو گاڑی سے گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں دوسری جگہ لے جا کر ان پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ’’ضمانت کے مرحلے پر شواہد کا تفصیلی تجزیہ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔‘‘ جسٹس اوسوال نے کہا کہ ’’ اس مرحلے پر گواہوں کے بیانات میں تضادات کا جائزہ لینا مقدمے کے حتمی فیصلے پر پیشگی رائے قائم کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘
ٹرائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت
ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ اب تک صرف چند گواہوں کے ہی بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں، تاہم تاخیر مکمل طور پر استغاثہ کی جانب سے نہیں ہوئی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ غیر ضروری التوا سے گریز کیا جائے تاکہ ملزمان کے تیز رفتار سماعت کے حق کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے مزید کہا کہ فوری ٹرائل نہ صرف ملزمان بلکہ عوامی مفاد کے لیے بھی ضروری ہے۔ آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ الزامات کی سنگینی اور اہم گواہوں کی باقی ماندہ گواہی کے پیش نظر ملزمان ضمانت کے مستحق نہیں بنتے، لہٰذا درخواست خارج کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
بچوں کی درسی کتابیں تک سیل کرنے پر ہائی کورٹ نے کی ضلع مجسٹریٹ کی سرزنش

