ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں و کشمیر میں اگست پُرامن، دہشت گردی کے تمام اعداد و شمار صفر
اگست ماہ میں گرچہ دہشت گرد واقعہ پیش نہیں آیا تاہم اس کے باوجود سیکورٹی الرٹ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : September 2, 2026 at 8:02 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر میں اگست مہینے کے دوران دہشت گردی سے متعلق ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا، جس کے ساتھ ہی یونین ٹیریٹری میں یہ 2026 کا دوسرا مہینہ بن گیا ہے جب دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں دہشت گردی سے متعلق کوئی بھی واقعہ بشمول شہری ہلاکت، سکیورٹی فورسز کے اہلکار کی ہلاکت حتی کہ کسی دہشت گرد کی ہلاکت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔ اس سے قبل جون 2026 پہلا ایسا مہینہ تھا جس میں دہشت گردی سے متعلق کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
اگست میں کئی سکیورٹی الرٹس اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں بھی ہوئیں۔ ان میں بین الاقوامی سرحد (انٹرنیشنل بارڈر) کے قریب مشتبہ ڈرونز کی موجودگی، مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد تلاشی کارروائیاں اور مشتبہ اور مشکوک ٹھکانوں سے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمدگی جیسے واقعات شامل ہیں۔
پورے ماہ سکیورٹی ایجنسیز نے جموں و کشمیر میں سخت نگرانی برقرار رکھی، خاص طور پر سرحدی اضلاع اور ان علاقوں میں جہاں دراندازی یا دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کا خدشہ رہتا ہے۔
مشتبہ ڈرونز
23 اگست کو سرحدی ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر سیکٹر میں بوبیان علاقے کے سرحدی دیہات کے اوپر پاکستان سے آنے والے ایک مشتبہ ڈرون کو دیکھا گیا۔ حکام کے مطابق یہ ڈرون نما چیز صبح تقریباً 10 بج کر 35 منٹ پر علاقے میں منڈلاتی دیکھی گئی اور بعد میں پاکستان کی طرف واپس چلی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے میں تلاشی شروع کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ہتھیار یا منشیات تو نہیں گرائی گئی۔ تاہم کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی۔
28 اگست کو پونچھ سیکٹر میں بھی ایک مشتبہ ڈرون کی اطلاع ملی۔ فوج کے ذرائع کے مطابق مینڈھر کے بہروتی علاقے کے اوپر بغیر پائلٹ کا ڈرون نما فضائی طیارہ دیکھا گیا۔ جس کی سرحد کی طرف جاتے ہوئے نگرانی کی گئی اور بعد میں وہ پاکستان کی طرف واپس چلا گیا۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں نگرانی اور تلاشی مزید سخت کر دی۔
سرحد پر اس الرٹ کے بعد کٹھوعہ میں ایک اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ ہیرانگر سیکٹر کے چھن کھتریاں گاؤں میں ملنے والے ایک کبوتر کے پاؤں میں ایسی انگوٹھی لگی ہوئی تھی جس پر بظاہر پاکستانی موبائل فون نمبر درج تھا۔ پولیس نے کبوتر کو اپنی تحویل میں لے کر نمبر اور اس بات کی جانچ شروع کی کہ یہ پرندہ سرحدی گاؤں تک کیسے پہنچا؟ حکام کے مطابق کبوتر سے کوئی مشتبہ مواد یا پیغام نہیں ملا اور جاسوسی کا کوئی پہلو بھی سامنے نہیں آیا۔
اس دوران سکیورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف احتیاطی کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔
اسلحہ اور گولہ بارود کی ضبطی
5 اگست کو فوج اور پولیس اہلکاروں نے پونچھ کے سرنکوٹ علاقے میں ایک مشتبہ ٹھکانے سے دو اے کے (AK) رائفل میگزین، گولہ بارود کے 117 راؤنڈ اور 9 ایم ایم پستول کے 17 راؤنڈ برآمد کیے۔ مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد جموں اور کٹھوعہ کے بعض علاقوں میں بھی مشترکہ تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔
15 اگست کو سکیورٹی فورسز نے سرنکوٹ کے ڈرابہ علاقے میں ایک اور مشتبہ ٹھکانے کا پتہ لگایا۔ پولیس حکام کے مطابق وہاں سے چھ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات، ایک موٹرولا وائرلیس سیٹ اور اے کے 47 کے سات راؤنڈ برآمد ہوئے۔
مہینے کے بعد کے حصے میں بارہمولہ ضلع کے سوپور کے منزسیر علاقے میں ایک خالی مکان سے اے کے 47 رائفل، تین میگزین، گولہ بارود کے 72 راؤنڈ اور چار دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے کشمیر میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے مشتبہ معاونین کو بھی گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کیا۔
دہشت گردی کے واقعات کم، مگر سیکورٹی برقرار
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی کو سکیورٹی میں کسی قسم کی نرمی کی وجہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا: "خطرے کی سطح کم ہوئی ہے، لیکن سکیورٹی نظام کسی بھی طرح کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہم سخت نگرانی جاری رکھیں گے، انٹیلی جنس معلومات کو مضبوط بنائیں گے اور کسی بھی مشکوک نقل و حرکت یا سرگرمی کا فوری جواب دیں گے۔"
افسر کے مطابق سکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ اب بھی روک تھام پر ہے اور پولیس، فوج اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے درمیان رابطہ اور تعاون برقرار ہے۔
امرناتھ یاترا بھی پر امن طور اختتام پذیر
اگست میں 57 روزہ شری امرناتھ یاترا بھی پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی، جو موسم گرما کے دوران جموں و کشمیر میں سکیورٹی اور انتظامی اعتبار سے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوتی ہے۔
یاترا 3 جولائی کو شروع ہوئی تھی اور 28 اگست کو جنوبی کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں میں واقع پوتر گپھا میں بھگوان شیو کی چھڑی پہنچنے کے ساتھ باضابطہ طور اور رسمی و روایتی طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ حکام نے اطلاع دی کہ 2026 کی یاترا کے دوران 4.8 لاکھ سے زیادہ شردھالوؤں نے پوتر امرناتھ گپھا کے درشن کیے۔
9 اگست کو شدید بارشوں کے باعث امرناتھ راستے کے بعض حصوں کو نقصان پہنچنے کے بعد پہلگام اور بالتل، دونوں راستوں سے یاترا معطل کر دی گئی تھی۔ بعد میں راستوں کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا، جس کے بعد روایتی اختتامی رسومات ادا کی گئیں۔
موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باوجود یاترا بغیر کسی دہشت گردی کے واقعے کے اختتام پذیر ہوئی۔ یاترا کے راستوں پر سکیورٹی کے لیے کئی سطحوں پر فورسز کی تعیناتی، رئیل ٹائم نگرانی سمیت دیگر اقدامات کیے گئے تھے۔ شری امرناتھ جی شرائن بورڈ نے بھی یاترا کے دوران راستوں کو نو فلائی زون قرار دیا تھا۔
سینئر پولیس افسر نے کہا: "یاترا کا پُرامن اختتام اور اگست میں دہشت گردی سے متعلق واقعات کا نہ ہونا، جموں و کشمیر کے سکیورٹی نظام کے لیے ایک اہم مہینہ ہے۔"
2026 میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق واقعات
| مہینہ | دہشت گردی سے متعلق واقعات | شہری ہلاکتں | سکیورٹی فورسز کی ہلاکتیں | دہشت گرد ہلاکتیں | کل ہلاکتیں |
|---|---|---|---|---|---|
| جنوری | 3 | 0 | 1 | 1 | 3 |
| فروری | 3 | 0 | 0 | 6 | 6 |
| مارچ | 2 | 0 | 0 | 2 | 2 |
| اپریل | 1 | 0 | 0 | 1 | 1 |
| مئی | 1 | 0 | 0 | 1 | 1 |
| جون | 0 | 0 | 0 | 0 | 0 |
| جولائی | 3 | 2 | 1 | 1 | 4 |
| اگست | 0 | 0 | 0 | 0 | 0 |
سورس: جموں و کشمیر پولیس
نوٹ: جولائی کے اعداد و شمار میں دہشت گردی سے متعلق 3 واقعات درج ہیں، جبکہ شہری، سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی تعداد بالترتیب 2، 1 اور 1 ہے، جس کے مطابق کل ہلاکتیں 4 بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:

