ETV Bharat / jammu-and-kashmir

حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین سمیت دیگر کے خلاف غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری

خصوصی این آئی اے عدالت نے کیس کا جائزہ لینے، تفتیش کاروں اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد غیرضمانتی وارنٹ جاری کیے۔

ممنوعہ تنظیم حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین
ممنوعہ تنظیم حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین (File Photo: ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 28, 2026 at 9:13 AM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے کالعدم عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے چار لوگوں کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ حاصل کیے ہیں، جن میں شیڈو عسکریت پسند گروپ یونائیٹڈ جہاد کونسل (یو جے سی) کے سربراہ سید صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ یہ وارنٹ دہشت گردی اور ملک دشمن سرگرمیوں سے متعلق طویل عرصے سے چل رہے ایک مقدمے سے متعلق ہیں۔

حکام نے جمعہ کو کہا کہ سی آئی کے نے یہ وارنٹ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور خطے میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے کی جاری کوششوں کے حصے کے طور پر حاصل کیے ہیں۔

سرینگر میں این آئی اے ایکٹ کے تحت مقرر کردہ ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لینے، تفتیش کاروں اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد یہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

ان ملزمان میں بڈگام ضلع کے سوبگ کے رہنے والے محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ شاہ اس وقت پاکستان میں ہیں اور دہشت گرد تنظیم متحدہ جہاد کونسل کے ساتھ ساتھ حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔

حکام نے انہیں ایک اہم دہشت گرد لیڈر بتایا جو مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ہوا دینے اور جموں و کشمیر میں اپنے کارندوں کو ہدایت دینے میں ملوث ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ان کے خلاف وادی کشمیر کے مختلف تھانوں میں دہشت گردی سے متعلق کئی مقدمات درج ہیں۔

وارنٹ میں نامزد ایک اور ملزم غلام نبی خان ہیں، جسے عامر خان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے سری گفوارہ کے رہنے والے ہیں۔ سی آئی کے نے انہیں حزب المجاہدین کا ڈپٹی سپریم کمانڈر بتایا۔ ان پر دہشت گردوں کو بھرتی کرنے، دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ہدایت جاری کرنے اور دہشت گردی سے متعلق دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ خان کے خلاف مختلف تھانوں کے ساتھ ساتھ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں میں دہشت گردی سے متعلق کئی مقدمات درج ہیں۔

تیسرے ملزم شیر محمد ہیں جنہیں بہادر اور ریاض کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے ملنگم کے رہنے والے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق وہ حزب المجاہدین کے کمانڈر ہیں اور ان پر مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

چوتھے ملزم ناصر یوسف قادری ہیں جو کہ اصل میں سرینگر کے حبّاکدل علاقے کے شیتلانگ کے رہنے والے ہیں اور بعد میں بمنہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ عہدیداروں نے الزام لگایا کہ قادری کا تعلق حزب المجاہدین سے ہے اور وہ دہشت گردانہ پروپیگنڈہ اور بیانیہ پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ قادری کشمیر میڈیا سروس کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، جس کے بارے میں سی آئی کے کا دعویٰ ہے کہ اسے بھارت مخالف مواد پھیلانے اور افراد اور کمیونٹیز کو دھمکیاں دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ کیس پانچ اپریل 1996 کا ہے، جب تفتیشی افسران کو یہ اطلاع ملی کہ پاکستان میں مقیم ہینڈلرز مبینہ طور پر کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مقصد سے تربیت دینے کے لیے پاک مقبوضہ کشمیر جانے کی ترغیب اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

جانکاری کے بعد سی آئی کے پولیس اسٹیشن میں ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق رنبیر پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے ساتھ ساتھ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)، 1967، اور اینیمی ایجنٹس آرڈیننس، 2005 (جموں و کشمیر دشمن ایجنٹ) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تفتیشی افسران نے بتایا کہ جانچ کے دوران انہوں نے ملزمان کو دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے، جن میں بھرتی، بنیاد پرستی کے فروغ اور دہشت گرد حملوں میں سہولت کاری شامل ہے۔ برسوں سے حکام کی مسلسل کوششوں کے باوجود، ملزمان فرار ہیں اور مبینہ طور پر گرفتاری سے بچ رہے ہیں۔

ریکارڈ پر رکھے گئے شواہد کو دیکھنے کے بعد عدالت نے پایا کہ الزامات میں ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور قومی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی سرگرمیوں سے متعلق سنگین جرائم شامل ہیں جس کی بنا پر غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری کیے۔

مزید پڑھیں:

پی ایف آئی نے نوجوانوں کو ممنوعہ تنظیموں میں شامل ہونے پر آمادہ کیا، این آئی اے

حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو بڈگام عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

کشمیر میں صلاح الدین کے فرزند اور بٹا کراٹے کی اہلیہ سمیت 4 ملازمین برطرف

یاسین ملک، شبیر شاہ اور مسرت عالم کے خلاف یو اے پی اے کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم

یو اے پی اے قانون کے تحت صلاح الدین سمیت 18 افراد 'دہشت گرد' قرار