ETV Bharat / jammu-and-kashmir
’رشوت خور‘ پٹواری کی عرضی مسترد، ہائی کورٹ نے رکھی سزا برقرار
کورٹ کے مطابق نشان زد رقم کی برآمدگی، گواہ اور اعتراف جرم پٹواری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 2, 2026 at 2:49 PM IST
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے 19 برس پرانے ایک رشوت کے کیس میں ریونیو اہلکار کی سزا برقرار رکھی۔ عدالت نے قرار پایا کہ ’’ملزم سے نشان زدہ نقد رقم کی برآمدگی، گواہوں کے بیانات اور اس کے رویے نے جرم کو واضح طور پر ثابت کر دیا ہے۔‘‘
جسٹس راجیش سیکھری نے مجرمانہ اپیل 25/2014 کو خارج کرتے ہوئے سال 2014 کے خصوصی عدالت کے اُس فیصلے کی توثیق کی جس میں پٹواری مدن لال کو ’’فرد‘‘ نامی ریونیو ریکارڈ جاری کرنے کے لیے نو ہزار روپے رشوت لینے پر ایک سال قید اور تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
استغاثہ کے مطابق 2006 میں شکایت کنندہ نے پٹواری پر رشوت مانگنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد اینٹی کرپشن کی ٹیم نے جال بچھا کر چھاپہ مار کارروائی انجام دی اور اسے رشوت کی رقم لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر دبوچا۔ موقع پر کیے گئے کیمیکل ٹیسٹ مثبت پائے گئے تھے اور رقم بھی برآمد ہوئی تھی۔
ملزم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’’صرف رقم کی برآمدگی سزا کے لیے کافی نہیں‘‘ اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے، مگر ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’رشوت کا مطالبہ اور اسے قبول کرنا، حالات و شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے، جو کہ اس کیس میں مکمل طور پر واضح ہے۔‘‘
عدالت نے چھاپے کے وقت ملزم کی جانب سے معافی مانگنے اور ’’پہلی بار غلطی ہونے کا اعتراف‘‘ کرنے کو بھی جرم ثابت ہونے کی کڑی قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے اپیل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ضمانتی بانڈ منسوخ کیے اور حکم دیا کہ ملزم دن کے اندر متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود کو پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں:

