ETV Bharat / jammu-and-kashmir

قریب نصف صدی بعد غیر ارادی قتل کیس میں معمر خاتون کی سزا ختم

کورٹ نے بزرگ خاتون کی ماضی میں کاٹی گئی سزا کو کافی اور قید کے برابر مان کر کیس ختم کر دیا۔

ا
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : December 31, 2025 at 2:50 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے 1979 میں شروع ہوئے ایک مقدمے کا دہائیوں بعد فیصلہ سناتے ہوئے بزرگ خاتون کی ماضی میں کاٹی گئی سزا کو ہی حتمی مان کر کیس کو ختم کر دیا۔ کورٹ نے 5 دہائیوں کی قانونی جنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے معمر خاتون کی پانچ سالہ قید کو سزا کے برابر مان کر مقدمہ ختم کر دیا۔

جسٹس سنجے پریہار نے 16 سال سے زائد قدیم ایک اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’یہ کیس فوجداری نظام میں شدید تاخیر کی ایک واضح مثال ہے۔‘‘ شمیمہ بیگم نامی ایک خاتون کو 2009 میں رنبیر پینل کوڈ (RPC) کے سیکشن 304-II کے تحت قتلِ خطا (غیر ارادی قتل) کے جرم میں 5 سال کی قید بامشقت کے ساتھ ساتھ دو ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ قتل کا یہ واقعہ 46 سال پہلے شمالی کشمیر کے سرحدی علاقہ اوڑی میں ایک گھریلو جھگڑے کے دوران پیش آیا تھا۔

کیسے ہوا قتل
10 جولائی 1979 کو مکئی کے کھیتوں کی آبپاشی کے دوران تلخ کلامی اور تنازعہ پُر تشدد شکل اختیار کر گیا اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق ’’خاتون نے جھگڑے کے دوران اپنی ساس پر کلہاڑی سے وار کیا، اور جب شوہر کی دادی بیچ بچاؤ کے لیے آئیں تو انہیں بھی سر پر چوٹ لگی، جس کے بعد وہ 4 دن تک زیر علاج رہیں اور زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہو گئی۔‘‘ عدالت نے قرار دیا کہ ’’یہ عمل پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا بلکہ جذباتی اشتعال میں اچانک واقعہ پیش آیا۔‘‘

پولیس نے سیکشن 326 اور 324 RPC کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی جسے بعد میں سیکشن 302 (قتل) میں تبدیل کیا گیا۔ تاہم، 30 سال سے زائد طویل ٹرائل کے بعد ٹرائل کورٹ نے 2009 میں صرف سیکشن 304-II اور 324 کے تحت سزا سنائی۔ اس سزا کے خلاف اپیل 16 سال تک زیر التوا رہی۔

فیصلے کے وقت خاتون کی عمر 70 سال سے زائد تھی اور بینائی کی کمزوری کے ساتھ ساتھ کئی دیگر عمر رسیدہ بیماریوں کی شکار بھی تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’’خاتون کا تعلق کمزور اور سماجی و معاشی پس منظر اور اوڑی کے دور دراز علاقے سے ہے، جہاں مقدمے کی پیروی کرنا ان کے لیے مشکل تھا۔‘‘

عدالت نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ ’’تیز اور بروقت انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو آرٹیکل 21 کے تحت ٹرائل اور اپیل دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔‘‘ عدالت نے نوٹ کیا کہ ’’سزا کا اصل مقصد ڈرانا، روکنا اور مجرم کی اصلاح ہونے چاہیے، اور ان میں سے کوئی ایک پہلو بھی نہ ہو تو انصاف نامکمل رہتا ہے۔‘‘

عدالت نے نوٹ کیا کہ اسٹیٹ (ریاست) نے نہ تو خاتون کی قتل کے الزام (302 RPC) سے بریت کو چیلنج کیا اور نہ ہی سزا بڑھانے کی اپیل کی جبکہ سماعت کے دوران سرکاری فریق کی طرف سے کوئی نمائندگی بھی موجود نہیں تھی۔

انسانی حالات، طویل قانونی عمل، غیر ارادی نوعیت، بڑھاپے اور پہلے سے کاٹی گئی قید کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت نے فیصلہ دیا کہ ’’مزید سزا برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ عدالت نے قید کو پہلے سے کاٹی گئی مدت مان کر کیس ختم کر دیا تاہم جرمانہ 5,000 روپے کر دیا۔ جرمانہ ادا نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ کی قید ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:

حراستی تشدد کیس میں ڈی ایس پی سمیت آٹھ اہلکاروں کی ضمانت منظور