ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں و کشمیر حکومت یوٹی میں نچلی سطح کے طرزِ حکمرانی کو 'ختم' کرنا چاہتی ہے، بی جے پی کا الزام
بلدیاتی انتخابات میں تاخیر پر بی جے پی رہنما و اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے عمر حکومت پر جمہوریت ختم کرنے کا الزام لگایا۔

Published : August 23, 2026 at 1:54 PM IST
|Updated : August 23, 2026 at 2:24 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کے بیچ، اپوزیشن پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آج کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت یونین ٹریٹری میں نچلی سطح پر جمہوریت کو پنپنے نہیں دینا چاہتی۔
بی جے پی کے سینئر رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ حکومت پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات نہ کرا کے جموں و کشمیر میں نچلی سطح کی جمہوریت کو "ختم" کرنا چاہتی ہے۔
بی جے پی لیڈر حکومت کے ان حالیہ بیانات پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت پنچایتی اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے کی خواہش مند نہیں ہے۔ یہ انتخابات بالترتیب 2023ء اور 2024ء سے زیرِ التوا ہیں، کیونکہ ان اداروں کی مدت گذشتہ برسوں میں ختم ہو چکی ہے۔
سنیل شرما سرینگر کے مضافاتی علاقے نوگام کے ایک نجی ہوٹل میں آج سے شروع ہونے والے بی جے پی کے صوبائی عہدیداران کے دو روزہ اجلاس سے قبل سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کر رہے تھے۔
دوسری جانب، بیوروکریسی اور پولیس پر اختیارات کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے یوٹی نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا تھا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ منتخب پنچایتی نمائندوں کو "نظر انداز کیا جائے، انہیں احترام نہ دیا جائے اور افسران ان کی شناخت تک تسلیم نہ کریں"۔

عمر حکومت کا موقف
"ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم انتخابات نہیں چاہتے۔ ہم نے کہا کہ ہمیں مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے۔ وہ (بی جے پی کے لوگ) ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ مناسب وقت پر دیا جائے گا۔ آج اگر ہم کسی کو سرپنچ یا ڈی ڈی سی (ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل) کا ممبر بنا بھی دیں، تو کیا افسران واقعی ان کی بات سنیں گے؟ ایسے انتخابات کرانے کا کیا فائدہ،" انہوں نے سنیچر کے روز جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
نائب وزیر اعلیٰ سے قبل، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ حکومت "مناسب وقت" پر پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرائے گی۔ پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے وزیر جاوید ڈار نے بھی "مناسب وقت" کا جملہ دہرایا جب ان سے ان انتخابات کے انعقاد کے بارے میں پوچھا گیا۔
مزید پڑھیں: عمر عبداللہ وادی میں دوبارہ الجھن کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں: سنیل شرما
اجلاس کے حوالے سے بی جے پی رہنما سنیل شرما نے سرینگر میں منعقدہ پارٹی اجلاس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی یہ ایونٹ تنظیمی مضبوطی، پارٹی کی کارکردگی کے جائزے اور جموں و کشمیر کے لیے مستقبل کے روڈ میپ پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے منعقد کر رہی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان ساجد یوسف نے بتایا کہ اس دو روزہ ریاستی سطح کے اجلاس میں وزیر اعظم کے دفتر میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، بی جے پی جموں و کشمیر یوٹی کے صدر ست شرما کے ہمراہ اراکینِ پارلیمنٹ، یوٹی کے قائدِ حزبِ اختلاف، اراکینِ اسمبلی اور صوبائی ٹیم کے اراکین شرکت کریں گے۔
حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے، شرما نے کہا کہ بی جے پی دو ستمبر کو سرینگر میں سول سیکرٹریٹ کے باہر سرکاری ملازمتوں کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف احتجاج کرے گی، جس کے بارے میں انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ملازمتیں "حکمران جماعت کے کارکنوں اور رشتہ داروں" کو دی جا رہی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل پولیس آفیسرز کے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ "ایس پی اوز کے اعزازیہ میں اضافے کے قواعد اور ضابطے مکمل کر لیے گئے ہیں، اور بہت جلد وزارتِ داخلہ ان کے حق میں حکم نامہ جاری کر دے گی۔"
یہ بھی پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کا ریاستی درجہ کی بحالی کیلیے احتجاج عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش: بی جے پی
ریاستی درجے کی بحالی کی مہم جاری رہے گی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

