ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ریگولرائزیشن کے بجائے آؤٹ سورسنگ، سینکڑوں فاریسٹ ورکر بے چین، سرینگر میں کیا احتجاج

سال 2004 سے خدمات انجام دے رہے محکمۂ جنگلات کے 1370 ورکر آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کے خلاف احتجاج پر اتر آئے۔

جموں کشمیر فاریسٹ ورکرز کا احتجاج
جموں کشمیر فاریسٹ ورکرز کا احتجاج (ای ٹی وی بھارت)
author img

By Mir Farhat Maqbool

Published : June 30, 2026 at 7:29 PM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ پر جاری تنازع کے درمیان محکمۂ جنگلات کے 1300 سے زائد ورکروں (یومیہ اجرت پر کام کر رہے مزدوروں) کو بھی نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حالانکہ یہ ڈیلی ویجرز 2004 سے محکمہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مستقلی (ریگولرائزیشن) کے منتظر ہیں۔

ان کارکنوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ 18 جون کو چیف سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والی کمپنسیٹری افاریسٹیشن فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی (CAMPA) کی اسکریننگ کمیٹی کے اجلاس میں لیا گیا۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں ان ورکروں کی آؤٹ سورسنگ کی منظوری دی اور معاملہ نیشنل CAMPA کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی کی رپورٹ، جس پر جموں و کشمیر CAMPA کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے ایس جے چندرن کے دستخط ہیں، میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تینوں زمروں کے افرادی قوت کی خدمات گورنمنٹ ای۔مارکیٹ پلیس (GeM) کے ذریعے حاصل کی جائیں گیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور افرادی قوت کی بھرتی کا عمل منظم بنایا جا سکے۔

اس فیصلے پر ناراض ان ورکروں نے سرینگر میں چیف وائلڈ لائف وارڈن کے دفتر کے باہر غیر معینہ مدت کا احتجاج شروع کر دیا ہے۔ احتجاج میں شریک مزدور منظور احمد بھٹ نامی ایک ورکر نے کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو 2004 سے محکمۂ جنگلات اور اس کے ذیلی اداروں میں کام پر رکھا گیا تھا اور مختلف حکومتوں اور افسران نے بارہا انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

انہوں نے کہا: "ہمیں یہ جان کر شدید صدمہ پہنچا ہے کہ اب محکمہ ہمیں نجی کمپنیوں کے حوالے کر رہا ہے، جس سے ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ نجی کمپنی ایک سال بعد ہمیں نکال سکتی ہے۔ ہم مستقلی کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن اب برسوں خدمت انجام دینے کے بعد ہمیں باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔"

کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت کی بنیاد پر رکھے گئے یہ ورکر مستقل عملے کی کمی پوری کرتے ہیں، جبکہ کیژول واچ اینڈ وارڈ مزدور اور موسمی فائر واچرز شجرکاری کے تحفظ، جنگلی حیات کے تحفظ اور جنگلات میں آگ سے بچاؤ جیسے کام انجام دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے موجودہ 1370 کیژول مزدوروں کی خدمات، جن کے مجموعی طور پر 3,22,936 مین ڈیز بنتے ہیں، اور تقریباً 1237 موسمی فائر واچرز کی خدمات جاری رکھنے کی تجویز ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں زمروں کے موجودہ عملے کی آؤٹ سورسنگ پر آنے والے اخراجات سالانہ پلان کے منظور شدہ بجٹ میں رد و بدل کرکے سود کی مد سے پورے کیے جائیں گے۔

جموں کشمیر فاریسٹ ورکرز کا احتجاج
جموں کشمیر فاریسٹ ورکرز کا احتجاج (ای ٹی وی بھارت)

ایک اور ورکر بلال احمد نے کہا کہ محکمۂ وائلڈ لائف کے 308 ورکروں کو بھی نجی کمپنی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارے ساتھ 2004 سے کام کرنے والے باقی تین سو سے زیادہ ورکروں کا کیا ہوگا؟ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہماری بھرتی CAMPA اسکیم کے تحت ہوئی تھی۔ ہمارے کئی ساتھی افسران کے ڈرائیور ہیں، جنگلی جانوروں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات اور معاملات کو سنبھالتے ہیں اور جنگلات میں لگنے والی آگ بجھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔"

اسی سال فروری میں ان ورکروں نے حکمران جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 11 اراکین اسمبلی سے ملاقات کی تھی۔ ان اراکین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا تھا کہ ان ورکروں کو مستقل کیا جائے اور ان کی ماہانہ تنخواہیں CAMPA اسکیم کے بجائے نان پلان مد سے ادا کی جائیں۔

جموں و کشمیر کے چیف وائلڈ لائف وارڈن چتربھوجا بہیرا نے کہا کہ ان کے دفتر کو ابھی تک ان کارکنوں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا: "یہ ورکرو وقتاً فوقتاً CAMPA اسکیم کے تحت شجرکاری، جنگلی حیات سے متعلق تنازعات کے انتظام اور دیگر عارضی کاموں کے لیے رکھے گئے تھے۔ یہ مستقل ملازم نہیں ہیں بلکہ حکومتِ ہند سے فنڈ جاری ہونے کے مطابق انہیں کام پر رکھا جاتا ہے۔"

گزشتہ سال CAMPA کی 25ویں اسٹیئرنگ کمیٹی نے ان ضرورت پر مبنی ورکروں کی اجرت کی منظوری دی تھی، جس کے لیے 11.02 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا تھا۔

منظور احمد بٹ نے مزید کہا: "ہم نے محکمۂ جنگلات کے وزیر کے ساتھ بھی ملاقات کی، وزیر اعلیٰ کے دفتر بھی گئے۔ ہمیں حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی، لیکن صرف ایک ماہ بعد ہمیں نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔"

سرکاری محکموں میں آؤٹ سورسنگ کا معاملہ اب ایک بڑا سیاسی تنازع بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں - پی ڈی پی اور بی جے پی -نے اس معاملے پر منتخب حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت نے 29 محکموں میں 22,454 ملازمتیں 200 سے زائد نجی کمپنیوں کے ذریعے آؤٹ سورس کی ہیں۔ ان میں سکیورٹی، ہاؤس کیپنگ، آئی ٹی سکیورٹی، صفائی، کمپیوٹر آپریشن، ووکیشنل ٹرینرز، ووکیشنل کوآرڈینیٹرز، واچ اینڈ وارڈ، ڈرائیور، پلمبر، آئی ٹی اور مالیاتی ماہرین، اور ٹیولپ باغات کی ترقی کے لیے فیلڈ اسٹاف جیسی اسامیاں شامل ہیں۔

ان کمپنیوں کا انتخاب حکومت کے گورنمنٹ ای -مارکیٹ پلیس (GeM) پورٹل پر ٹینڈر کے ذریعے کیا گیا، جہاں مختلف محکموں نے تقریباً 200 کروڑ روپے سالانہ کی لاگت سے افرادی قوت حاصل کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیے۔ ان کمپنیوں کے دفاتر گجرات، نوئیڈا، ہریانہ، پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور دہلی میں ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر کمپنیاں جموں و کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ آؤٹ سورسنگ کے خلاف پی ڈی پی کا شدید احتجاج
  2. آؤٹ سورسنگ تنازع: عمر حکومت نے بیک ڈور بھرتیوں کے الزامات مسترد کر دیے، پی ڈی پی کو ثبوت پیش کرنے کا چیلنج