ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کراپ انشورنس کیلیے جموں کشمیر کے کسانوں کو کرنا پڑے گا مزید انتظار، جلد جاری ہونگے نئے ٹینڈر
سیب باغبانوں کے بڑھتے مطالبات کے بیچ حکومت نے فصل بیمہ اسکیم کے نفاذ کے لیے نئی بولیاں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Published : June 1, 2026 at 8:42 PM IST
سرینگر: سیب کی فصل کے بیمہ کے مطالبات میں اضافے کے بیچ جموں و کشمیر حکومت نے ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم (آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) کے نفاذ کے لیے نئے ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال منتخب کی گئی دو انشورنس کمپنیز کی تجاویز زیادہ پریمیم مانگنے کی وجہ سے مسترد کر دی گئی تھیں۔
گزشتہ سال محکمہ زراعت نے ایگریکلچر انشورنس کمپنی آف انڈیا اور ٹاٹا اے آئی جی جنرل انشورنس کی بولیاں منظور کی تھیں تاکہ کشمیر میں سیب اور زعفران جبکہ جموں ڈویژن میں آم اور لیچی کی فصلوں کو بیمہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ڈائریکٹر ایگریکلچر، کشمیر، سرتاج شاہ نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ منتخب انشورنس کمپنیاں 30 فیصد سے زائد پریمیم کا مطالبہ کر رہی تھیں، جو حکومت ہند کی ہدایات کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا: "اس شرح پر پریمیم کی مالی لاگت تقریباً 950 کروڑ روپے بنتی تھی، جسے جموں و کشمیر کے محکمہ خزانہ نے مسترد کر دیا۔ اسی وجہ سے تازہ ٹینڈرنگ کا فیصلہ کیا گیا اور اب دوبارہ بولیاں طلب کی جا رہی ہیں۔"
سرتاج شاہ نے مزید کہا کہ حکومت ہند بھی فصل بیمہ سے متعلق رہنما اصولوں میں تبدیلی کر رہی ہے، اس لیے ٹینڈر دستاویزات میں بھی ضروری ترمیم کی جا رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں نئے ٹینڈر جاری کیے جائیں گے۔
وزیر زراعت جاوید احمد ڈار نے کہا کہ فصل بیمہ اسکیم کے لیے بولی کا عمل یکم جون سے شروع ہوگا اور حکومت ایک یا دو ماہ میں اس عمل کو مکمل کر لے گی۔
وزیر پُر امید
انہوں نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ فصل بیمہ اسکیم رواں سال ہی نافذ ہو جائے گی۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے بجٹ میں بھی رقم مختص کر رکھی ہے۔" وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ "جب تک اسکیم نافذ نہیں ہوتی، موسمی آفات سے متاثرہ کسانوں کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت امداد فراہم کی جائے گی۔"
بیمہ ماہرین کے مطابق اگر پریمیم 30 فیصد سے زیادہ ہو جائے تو حکومت ہند کے قواعد کے تحت اضافی مالی بوجھ ریاستی حکومت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پریمیم کے تین حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ کسان ادا کرتے ہیں جو 5 فیصد ہوتا ہے، دوسرا حصہ ریاستی حکومت اور تیسرا حصہ حکومت ہند ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے میں پریمیم کی لاگت ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ بن رہی تھی، جسے محکمہ خزانہ نے منظور نہیں کیا۔
موسمی تبدیلی کا کشمیری پیداوار پر اثر
کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیب کی پیداوار متاثر ہونے سے باغبانوں کی جانب سے فصل بیمہ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ژالہ باری سیب باغبانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 6 مئی سے 30 مئی کے درمیان سات مرتبہ ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، جن سے شمالی کشمیر کے سوپور سے لیکر جنوبی کشمیر کے شوپیاں تک سیب کے باغات متاثر ہوئے۔
شوپیاں کے ایک سیب باغبان محمد شفیع نے کہا: "ہمیں ہر سال موسم کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لیکن نہ تو کوئی بیمہ تحفظ ملتا ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے مناسب معاوضہ۔"
ماہرین اقتصادیات اور پھلوں کے تاجروں کے مطابق سیب کی صنعت جموں و کشمیر کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 7 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہے۔ سالانہ 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن سیب کی پیداوار سے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے اور سیزن کے دوران 35 لاکھ افراد کا روزگار اسی صنعت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ جڑا رہتا ہے۔
کشمیر کے سیب ملک کی مجموعی سیب پیداوار کا 78 فیصد حصہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "یہ پیداوار مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ کسان زرعی زمین کو تیزی سے سیب کے باغات میں تبدیل کر رہے ہیں۔"
جموں و کشمیر حکومت کے اقتصادی جائزہ 2024-25 کے مطابق باغبانی کی اہم فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 2021-22 میں 3.42 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 2024-25 میں 3.44 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

