ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بڈگام اسمبلی نشست پر این سی کو پہلی مرتبہ شکست، ڈی پی امیدوار آغا منتظر کامیاب

نیشنل کانفرنس کی انتخابی تاریخ میں پارٹی نے بڈگام سیٹ پر پہلی مرتبہ شکست کا سامنا کیا؛ اہم وجوہات پر عرفان شاہ کی رپورٹ۔

آغا منتظر مہدی (دائیں) نے بڈگام نشست پر جیت درج کر لی
آغا منتظر مہدی (دائیں) نے بڈگام نشست پر جیت درج کر لی (فائل فوٹو: پی ڈی پی ایکس ہینڈل)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : November 14, 2025 at 3:26 PM IST

|

Updated : November 14, 2025 at 5:00 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

بڈگام : بڈگام نشست کی انتخابی تاریخ میں نیشنل کانفرنس (این سی) کو پہلی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جمعہ کو منظر عام پر آئے ضمنی انتخابات کے نتائج نے جموں کشمیر کے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی۔ حکمران جماعت کے امیدوار آغا محمود کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) امیدوار آغا منتظر نے 4,152 ووٹوں سے شکست دی۔ آغا منتظر نے 21,534جبکہ این سی کے آغا محمود نے 17,382حاصل کیے۔

ناقابل شکست
آغا محمود سے قبل بڈگام نشست پر نیشنل کانفرنس کا کوئی بھی امیدوار انتخابات میں ناکام نہیں ہوا ہے۔ سال 1962میں اس نشست پر پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے جن میں جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے آغا سید علی صفوی نے جیت درج کی تھی۔ بعد ازاں 1976سے گزشتہ برس یعنی 2024تک جب بھی نیشنل کانفرنس نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا، ہمیشہ جیت درج کی۔ سال 1972میں پہلی مرتبہ اس نشست پر کانگریس کے امیدوار علی محمد میر نے اس وجہ سے جیت درج کی کیونکہ نیشنل کانفرنس اس سال کے انتخابی عمل سے دور رہی تھی۔

آغا روح اللہ کے ’بائیکاٹ‘ کا اثر
سال 2024انتخابات میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جیت درج کی تھی تاہم گاندربل کی سیٹ برقرار رکھنے کے بعد سے یہاں انتخابات ناگزیر بن گئے تھے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا اس سیٹ پر استعفیٰ بھی لوگوں میں این سی کے تئیں ناراضگی کا ایک سبب ہے تاہم سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار سبط محمد حسن نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ آغا روح اللہ اور این سی کے مابین خلفشار سے ووٹ تقسیم ہوئے جو این سی کی ہار کا ایک بڑا سبب ہے۔

گیارہ نومبر کو ہوئے انتخابات کے دوران ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے نہ صرف اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا بلکہ اس سے قبل این سی کی تشہیری مہم سے بھی دور رہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ آغا روح اللہ کے ’وفادار‘ ووٹروں نے این سی کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا۔

عمر عبداللہ کی سرکار پر سوالیہ نشان
جموں کشمیر کے ضمنی انتخابات کو این سی سرکار کی ایک سال کی کارکردگی کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا۔ حزب اختلاف سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ ’’لوگ این سی حکومت کے کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘‘

بڈگام اور نگروٹہ اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ 11 نومبر کو ہوئی تھی جبکہ آج ووٹوں کی گنتی عمل میں لائی گئی۔ بڈگام کی سیٹ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے گاندربل سیٹ برقرار رکھنے اور بڈگام نشست سے استعفی کے باعث خالی ہوئی تھی، جبکہ نگروٹہ کے رکن اسمبلی دیویندر سنگھ رانا کی وفات کے بعد وہاں انتخابات ضروری قرار پائے تھے۔

نگروٹہ اسمبلی نشست پر بی جے پی نے جیت برقرار رکھی اور ان کی امیدوار دیویانی رانا نے قریبی حریف ہرش دیو سنگھ کو 24ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ ادھر بڈگام نشست پر پی ڈی پی امیدوار آغا سید منتظر مہدی نے۔۔۔ ووٹ حاصل کیے جبکہ آغا سید محمد الموسوی کو صرف ۔۔۔ ووٹ حاصل ہوئے۔ اس نشست پر تیسرے نمبر رہے امیدوار جبران ڈار ۔۔۔ ووٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے وہیں کوئی بھی پارٹی یا امیدوار اس نشست پر قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا۔

یہ بھی پڑھیں:

نگروٹہ اسمبلی نشست پر بی جے پی امیدوار دیویانی رانا نے جیت درج کی

Last Updated : November 14, 2025 at 5:00 PM IST