ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'صرف شک سزا دینے کیلیے کافی نہیں' کورٹ نے کیا چھیڑ چھاڑ کیس میں ملزم کو بری
ملزم پر گھر میں داخل ہوکر خاتون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام تھا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : April 9, 2026 at 2:35 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کی ایک عدالت نے گھر میں زبردستی داخل ہونے اور خاتون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شکایت کنندہ کے بیانات میں تضاد، رپورٹ درج کرانے میں تاخیر اور آزاد گواہوں کی عدم موجودگی سے کیس میں معقول شک پیدا ہوتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اصول دہرایا کہ "صرف شک کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔"
اپنے نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں فورتھ ایڈیشنل منصف (جے ایم آئی سی) جموں، حنا پروین گونی نے کہا کہ "استغاثہ راج کمار کے خلاف دفعہ 451، 354 اور 509 آر پی سی کے تحت الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔" عدالت نے کہا کہ "شکایت کنندہ کی گواہی سنجیدہ ضرور ہے، لیکن یہ دلیل (ملزم کو) مجرم قرار دینے کے لیے مطلوبہ مضبوط نہیں۔"
یہ معاملہ 31 جولائی 2014 کی رات تقریباً 9:30 بجے کے ایک واقعے سے جڑا ہے۔ الزام تھا کہ ملزم نشے کی حالت میں خاتون کے گھر میں داخل ہوا، اسے گالیاں دیں، زبردستی پکڑا اور نامناسب طریقے سے چھوا، اور پھر اس کی چیخ و پکار سن کر گھر والے اور پڑوسی آنے پر ملزم فرار ہو گیا۔
خاتون نے عدالت میں بیان دیا کہ "ملزم نشے میں گھر میں داخل ہوا، مجھے گالیاں دیں، میرا منہ دبایا، میرے منہ کو اپنے منہ سے لگایا، سینے کو پکڑا، اور مزاحمت کرنے پر چیخا اور تھپڑ مارا۔"
اس نے بتایا کہ شور مچانے پر اس کا شوہر، سسرال والے اور پڑوسی موقع پر پہنچے، جس کے بعد ملزم بھاگ گیا۔ اس نے کہا کہ پہلے معاملہ پنچایت میں لے جایا گیا اور وہاں حل نہ ہونے پر پولیس کے پاس گئے۔
تاہم شکایت تقریباً چھ دن بعد درج کرائی گئی، جسے عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا، خاص طور پر اس لیے کہ پولیس اسٹیشن صرف آدھا کلومیٹر دور تھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ خاتون اس دوران گھر پر ہی موجود رہی اور ملزم نے اسے پولیس جانے سے نہیں روکا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ پنچایت میں معاملہ لے جانے کی بات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی پنچایت ممبر کو گواہ بنایا گیا اور نہ کوئی ریکارڈ پیش کیا گیا۔
بریت کی ایک بڑی وجہ شکایت کنندہ کے پولیس بیان اور عدالت میں دیے گئے بیان میں تضاد تھا۔ عدالت نے کہا کہ دفعہ 161 سی آر پی سی کے تحت اس نے کہا تھا کہ ملزم نے اس کی گردن پکڑی، جبکہ عدالت میں اس نے کہا کہ اس کا منہ پکڑا گیا۔ عدالت کے مطابق یہ معمولی فرق نہیں بلکہ کیس کی بنیاد کو متاثر کرتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ تھپڑ مارنے کا الزام صرف عدالت میں سامنے آیا، جبکہ شکایت اور پولیس بیان میں اس کا ذکر نہیں تھا، جسے عدالت نے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
جرح کے دوران شکایت کنندہ کے کچھ بیانات کو بھی اہم مانا گیا۔ اس نے کہا کہ "اگر عدالت ملزم کو بری کرتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں" اور بعد میں کہا کہ "میں ملزم کو معاف کرنا چاہتی ہوں"۔ عدالت کے مطابق ان باتوں سے اس کے الزامات کی شدت کمزور پڑ گئی۔
ملزم نے تمام الزامات کی تردید کی اور خود کو بے قصور بتایا۔ استغاثہ نے چھ گواہوں کا حوالہ دیا تھا، لیکن صرف تین کو پیش کیا گیا۔ شکایت کنندہ کے شوہر نے کسی اہم نکتے پر اس کا ساتھ نہیں دیا جبکہ ایک اور گواہ منحرف ہو گیا۔ اس طرح کیس زیادہ تر شکایت کنندہ کی تنہا گواہی پر منحصر رہ گیا۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ اگر گواہی مضبوط اور قابلِ بھروسہ ہو تو صرف ایک شخص کی گواہی پر بھی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن اس معاملے میں ثبوت ناکافی پائے گئے۔ عدالت نے اپنے ایک اہم مشاہدے میں کہا: "شک چاہے کتنا ہی مضبوط ہو، ثبوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔" مزید کہا کہ "بیانات میں تضاد، بعد میں اضافہ، غیر وضاحتی تاخیر اور ثبوت کی کمی استغاثہ کے موقف پر معقول شک پیدا کرتی ہے۔"
آخر میں عدالت نے کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا راج کمار کو تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ اس کے ضمانتی بانڈ بھی ختم کر دیے گئے اور کیس کو ریکارڈ روم میں بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:

