ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہاسٹل خالی کرنے کا حکم جاری، مذہب پر ہوئی سیاست نے طلبہ کا دل توڑ دیا
طلبہ نے کہا، ہم ابھی نئی شروعات کررہے تھے، اور مذہب کی بنیاد پر ہوا احتجاج ہماری بدقسمتی ہے، ہم اسے بھول نہیں پائیں گے۔

Published : January 8, 2026 at 10:54 AM IST
سرینگر: جموں و کشمیر میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس (SMVDIME) کا رجسٹریشن ختم کیا جانا نوجوان میڈیکل طلباء کے لئے دل دہلا دینے والا اور چونکا دینے والا واقعہ بن گیا۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) کی جانب سے معیارات پر پورا نہیں اترنے کی وجہ بتاکر میڈیکل ایکسیلنس کی اجازت واپس لینے کے بعد میڈیکل کالج نے اپنا آپریشن ختم کر دیا ہے۔
کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم عاشق احمد کو تقریباً تین ماہ قبل ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ دیا گیا تھا۔ لیکن اب، عاشق کو گھر کے لیے روانہ ہونے کے لیے کہا گیا۔
عاشق نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ، "ہم اپنے کمرے کے اندر بیٹھے تھے جب ہمیں اپنے کورس کی معطلی کے بارے میں پتہ چلا۔ ہم آج ہاسٹل میں رہے کیونکہ وہاں کوئی کلاس نہیں تھی،" اس نے مزید کہا، "ہم ابھی اپنے کیرئیر میں ایک نئی شروعات کر رہے تھے اور ہمیں مذہب کی بنیاد پر داخلے کے اس احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ہمارے لیے بدقسمتی اور صدمے کی بات ہے۔ ہم اسے کبھی بھول نہیں پائیں گے۔"
عاشق احمد کشمیر کے ان 42 سے زیادہ مسلم طلباء میں شامل تھا جسے مسابقتی نیٹ کے ذریعہ میرٹ کی بنیاد پر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں 50 طلباء کے پہلے بیچ میں داخلہ دیا گیا تھا۔ لیکن 60 سماجی اور دائیں بازو کی تنظیموں کے گروپ شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی نے کشمیری مسلمان طلباء کو دوسرے میڈیکل کالجوں میں منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی نومبر 2025 میں وجود میں آئی تھی۔
گروپ نے استدلال کیا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے چندہ سے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو چلایا جاتا ہے۔ یہ چندہ ہندو یاتریوں کی طرف سے دیا جاتا ہے اور انہیں صرف ہندوؤں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس اقلیتی ادارے کے طور پر درج نہیں ہے اور اسے جموں و کشمیر حکومت سے گرانٹ بھی ملتی ہے۔ حکمران نیشنل کانفرنس کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں 50 کروڑ سے زیادہ کی رقم شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو دی گئی جس سے یہاں مذہب کی بنیاد پر داخلہ ممکن نہیں ہوتا۔
لیکن جب نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (ایم اے آر بی) نے جموں کے ریاسی میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کو تعلیمی سال 2025-26 کے لیے 50 نشستوں کے ساتھ ایم بی بی ایس کورس چلانے کے لیے دی گیا اجازت نامہ (لیٹر آف پرمیشن: ایل او پی) کو واپس لے لیا تو کالج حکام نے طلباء کو اپنے ہاسٹل خالی کرنے کی ہداہت جاری کر دی۔
ایک اور طالب علم نے کہا، "ہم اگلے 2-3 دنوں میں گھر کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، اس فیصلے سے فیکلٹی کو بھی دکھ ہوا ہے۔ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست بھی خوش نہیں ہیں۔ ہر کوئی رو رہا تھا کیونکہ ہمارے بیچ ایک رشتہ بن گیا تھا۔ ہمارے کالج کے اندر خوشگوار ماحول تھا۔ لیکن باہر ہوئے احتجاج نے امن کو خراب کیا اور ہمارا ذہنی سکون متاثر ہوا۔"
این ایم سی نے اپنے فیصلے کو فوری طور پر نافذ العمل کرنے کا حکم دیا۔ این ایم سی کے حکم نامے میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلباء کو قابل اطلاق اصولوں کے مطابق یوٹی کے اندر دیگر طبی اداروں میں سیٹ فراہم کرانے کے لیے مجاز حکام کو اختیار دیا گیا ہے۔
اس پورے معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ان طلباء کو جموں و کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کورسز کے لیے جگہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، میں نے وزیر صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ (طلباء) کو ان کے گھر کے قریب کالج میں ایڈجسٹ کریں۔ عمر عبداللہ نے مزید کہا، وہ طلبہ جنہیں مستقبل میں سیٹیں نہیں ملیں گی وہ سنگھرش سمیتی کے لوگوں کو یاد رکھیں گے۔
انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کے کیریئر کو 'خراب کرنے' کے لیے سنگھرش سمیتی پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ لوگ ملک کے دوسرے حصوں میں میڈیکل کالج کے قیام کے لیے لڑتے ہیں، لیکن یہ لوگ یہاں ایک میڈیکل کالج کو بند کرنے کے لیے لڑے۔
عبداللہ نے مزید کہا کہ "آپ نے جموں و کشمیر کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، اگر آپ بچوں کے کیرئیر کو خراب کرنے سے خوش ہیں اور اگر اس سے آپ کو اطمینان ملتا ہے، تو جا کر پٹاخے پھوڑیں۔"
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابتدائی طور پر، کالج میں 50 طلباء کو داخلہ دیا گیا تھا لیکن اگلے چند سالوں میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی انٹیک صلاحیت بڑھ کر 400 ہو جاتی۔ عبداللہ نے مزید کہا، امکان تھا کہ 250 طلباء جموں و کشمیر سے ہوتے۔ لیکن اب انہیں سیٹ نہیں ملے گی کیونکہ آپ نے اسے بند کرا دیا ہے۔
جموں کشمیر حکومت کے وزیر جاوید احمد رانا نے بھی کہا کہ مذہب کی بنیاد پر داخلہ ایک جمہوری ملک میں صحت مند معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھوں نے کہا، یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم نے بڑے اداروں کو مندر مسجد کی سیاست میں شامل کیا، ہم اپنے معاشرے اور لوگوں کو کہاں لے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:

