ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں کشمیر میں گرمی بڑھنے کی پیش گوئی، سرینگر میں درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچنے کا امکان
24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں چند مقامات پر ہلکی بارش یا گرج چمک کا بھی امکان ہے۔

Published : August 27, 2026 at 9:33 AM IST
سرینگر: اگست کے اواخر میں خشک اور گرم موسم برقرار رہنے کے باعث، اگلے چند دنوں کے دوران وادی کشمیر میں درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے۔ میدانی علاقوں میں دوپہر کے وقت گرمی بڑھ سکتی ہے اور سرینگر میں درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے سرینگر مرکز کے مطابق، اگلے تین سے چار دنوں کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے، جب کہ گرمی کی یہ شدت جمعہ اور سنیچر کے روز سب سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ گرمی کے عروج کے اس دورانیے میں سرینگر سمیت وادی کے کئی میدانی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیئس کے آس پاس یا اس کے قریب ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
درجہ حرارت میں یہ اضافہ خطے کے بیشتر حصوں میں دن کے معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے بعد متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مرکز کے مطابق، کشمیر کے مختلف مقامات پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے دو سے چار ڈگری سیلسیئس زیادہ رہا، جب کہ جموں ڈویژن میں درجہ حرارت معمول سے ایک سے تین ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ 26 اگست کو جاری کردہ سرکاری موسمیاتی رپورٹ کے مطابق سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ جموں ڈویژن کے کٹھوعہ میں سب سے زیادہ یعنی 36.2 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت درج کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کے روز سرینگر میں آسمان بنیادی طور پر صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 33 ڈگری سیلسیئس اور کم سے کم 18 ڈگری سیلسیئس رہنے کا امکان ہے۔ جموں میں موسم جزوی طور پر ابر آلود سے لے کر عام طور پر ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سیلسیئس اور کم سے کم 26 ڈگری سیلسیئس رہ سکتا ہے۔ گرمی کی یہ لہر میدانی علاقوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہونے کی توقع ہے، جبکہ بالائی علاقے نسبتاً ٹھنڈے رہیں گے۔
درجہ حرارت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بالائی علاقے میں واقع ایک مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23.4 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ پہلگام میں 26.8 ڈگری سیلسیئس، جبکہ بانہال کے قریبی علاقے بٹوت میں 28 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ خطے کے دیگر حصوں میں، قاضی گنڈ میں 31.6 ڈگری سیلسیئس، کپواڑہ میں 32.3 ڈگری سیلسیئس، کوکرناگ میں 30.8 ڈگری سیلسیئس، اور بانہال میں 30.1 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ جموں شہر میں 35 ڈگری سیلسیئس جبکہ کٹرا میں 32.7 ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت درج کیا گیا۔
گرمی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود، خطے میں موسم مکمل طور پر خشک رہنے کی توقع نہیں ہے۔ سرکاری پیشگوئی کے مطابق، اگلے 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں چند مقامات پر ہلکی بارش یا گرج چمک کا امکان ہے، اور اگلے دو دنوں کے دوران بھی اسی طرح کی صورتحال متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ سات روزہ پیش گوئی کے مطابق، 27 اور 28 اگست کو کشمیر میں چند مقامات پر بارش، اور اس کے بعد 29 اور 30 اگست کو کئی علاقوں میں بکھری ہوئی موسمی سرگرمیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ جب کہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو بڑے پیمانے پر موسمی سرگرمیوں یا بارش کا اشارہ دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کے آخری ایام میں خطے کے کچھ حصوں میں تیز ہواؤں، بجلی چمکنے اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا جھونکے چلنے کے امکان کا بھی ظاہر کیا ہے۔
موسم میں متوقع ان تبدیلیوں کے پیشِ نظر حکام نے مسافروں کو جموں-سرینگر ہائی وے اور دیگر اہم شاہراہوں پر سفر کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
جموں و کشمیر ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر سنگل لین کی پابندیوں اور سڑک کی جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت انتہائی سست رہی ہے۔ ادھم پور کے داول مقام پر تقریباً 30 سے 40 میٹر کے سنگل لین حصے کے باعث ٹریفک کو متبادل طریقے سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
ٹریفک پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹریفک کنٹرول یونٹس سے سڑک کی صورت حال کی تصدیق کرنے کے بعد ہی سفر کا آغاز کریں۔ خاص طور پر مسافروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جموں-سرینگر شاہراہ پر دن کے وقت سفر کرنے کو ترجیح دیں۔
پہاڑوں سے پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے ساتھ ساتھ رامبن اور بانہال کے درمیان سڑک کی جاری تعمیرات کی وجہ سے رات کے سفر کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے ڈنگول-خونی نالہ علاقے کے قریب سڑک کو کشادہ کرنے کے کام کی وجہ سے دن کے وقت کشمیر جانے والے تیل اور گیس کے ٹینکروں کی نقل و حرکت متاثر ہوگی۔ آتش گیر مادہ لے جانے والے ٹینکروں کو مخصوص اوقات میں ٹنلوں سے گزرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے، جب کہ ٹینکر آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسی حساب سے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔
پہاڑوں سے پتھر گرنے، پسیاں گرنے کے خطرات اور رام بن اور بانہال کے درمیان تعمیراتی سرگرمیوں کے پیشِ نظر تازہ اور خراب ہونے والے لائیو اسٹاک لے جانے والے مال بردار گاڑیوں کے مالکان کو بھی ٹریفک پولیس کے ٹائم ٹیبل پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بڑی گاڑیوں کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر زیادہ وزن نہ لادیں اور شاہراہ پر سفر کرنے سے پہلے ضرورت کے مطابق ایندھن ساتھ رکھیں۔ مسافروں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ رام بن اور بانہال کے درمیان، خاص طور پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے والے علاقوں کے قریب غیر ضروری طور پر رکنے سے گریز کریں۔
27 اگست کے لیے ٹریفک پلان کے مطابق، موزوں موسم، سڑک کی بہتر صورت حال اور متعلقہ حکام کی جانب سے کلیئرنس کی صورت میں جموں-سرینگر شاہراہ پر دونوں سمتوں سے مسافر اور چھوٹی گاڑیوں، نجی کاروں اور بڑی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ ٹریفک پولیس نے کہا کہ گاڑی چلانے والے اپنی لین کی پابندی کریں اور اوور ٹیکنگ اور غلط لین میں گاڑی چلانے سے گریز کریں۔
کشتواڑ-سنتھن-اننت ناگ روڈ پر بھی ٹریفک کو موسم، سڑک کی صورت حال اور سڑک کی دیکھ بھال کرنے والی ایجنسیوں کی کلیئرنس سے مشروط کیا گیا ہے۔ ایڈوائزری میں اس روٹ پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے مخصوص اوقات کا تعین کیا گیا ہے۔
سرینگر-سونمرگ-گومری روڈ اور مغل روڈ کے لیے بھی اسی طرح کی پابندیاں اور کٹ آف اوقات جاری کیے گئے ہیں۔ سرینگر-سونمرگ-گومری روڈ پر سفر کرنے والے ڈرائیوروں کو سڑکوں پر پھسلن کے باعث اینٹی اسکیڈ چینز ساتھ رکھنے اور استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جموں، سرینگر، رام بن، ادھم پور، کشتواڑ اور پی سی آر کارگل میں قائم ٹریفک کنٹرول یونٹس کے ذریعے سڑک کی صورت حال کی تصدیق کرنے کے بعد ہی اپنے سفر کا آغاز کریں۔ دن کے درجہ حرارت میں اضافے اور وقفے وقفے سے بارش کے امکانات کے باعث، میدانی اور بالائی علاقوں کے موسمی حالات میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف سرینگر اور دیگر نشیبی علاقوں میں گرمی بڑھنے کا امکان ہے، وہی دوسری طرف ہل اسٹیشنز اور زیادہ بلندی والے علاقے نسبتاً ٹھنڈے رہنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں:
وادیٔ کشمیر میں اتوار کی صبح شدید بارش، کئی دنوں کے شدید درجۂ حرارت کے بعد موسم خوشگوار

