ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے محمد ہاشم قریشی کے خلاف فوجداری کارروائی پر روک لگا دی

قریشی کے وکیل نے بتایاکہ عدالت نے دوسرے فریق کے خلاف ایک حکمِ امتناعی جاری کیا، جو مبینہ واقعہ کے دن بھی نافذ العمل تھا۔

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے محمد ہاشم قریشی کے خلاف فوجداری کارروائی پر روک لگا دی
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے محمد ہاشم قریشی کے خلاف فوجداری کارروائی پر روک لگا دی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 27, 2026 at 7:04 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر : جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پولیس اسٹیشن نشاط، سرینگر میں درج ایف آئی آر سے متعلق محمد ہاشم قریشی کے خلاف زیرِ سماعت فوجداری چالان کی کارروائی پر عبوری طور پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے عبوری ریلیف دینے کا معاملہ بنتا ہے۔ جسٹس سنجے دھر نے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ جبکہ درخواست ایف آئی آر نمبر 33/2026 سے متعلق دائر کی گئی تھی، جو پولیس اسٹیشن نشاط میں درج کی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے چار صفحات پر مشتمل حکم میں ہدایت دی کہ فی الحال خصوصی موبائل مجسٹریٹ، پی ٹی اینڈ ای، سرینگر کی عدالت میں زیرِ التوا مذکورہ چالان کی کارروائی پر روک رہے گی۔ مقدمے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات، جن میں 126(2)، 115(2)، 351(2)، 324(4)، 329(3) اور 238 شامل ہیں، کے تحت مبینہ جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ فوجداری کارروائی کی بنیاد دراصل ان کے اور دوسرے فریق کے درمیان جاری ایک سول تنازع ہے۔

قریشی کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سید فیصل قادری، ایڈووکیٹ نعمان ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے بتایا کہ سول عدالت نے 3 اپریل 2026 کو دوسرے فریق کے خلاف ایک حکمِ امتناعی جاری کیا تھا، جو مبینہ واقعے کے دن بھی نافذ العمل تھا۔ درخواست گزار، جو ماضی میں جموں و کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی (جے کے ڈی ایل پی) کے چیئرمین رہ چکے ہیں، کے مطابق حکمِ امتناعی کے باوجود دوسرے فریق نے ان کے زیرِ قبضہ جائیداد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

قریشی نے اس کے بعد سول عدالت سے ضابطۂ دیوانی کی دفعہ کے تحت کارروائی کی درخواست کی تھی۔ ان کے وکیل کا دعویٰ تھا کہ اسی درخواست کے ردِعمل میں فوجداری مقدمہ درج کیا گیا، یعنی ایف آئی آر کو ایک طرح کا جوابی اقدام قرار دیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر اور چارج شیٹ ’’بالکل جھوٹی اور بے بنیاد‘‘ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چالان کے ساتھ موجود مواد سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرا فریق درخواست گزار کی جائیداد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اس لیے درخواست گزار کے خلاف مجرمانہ تجاوزِ اراضی کا الزام قابلِ قبول نہیں بنتا۔

دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس سنجے دھر نے کہا کہ درخواست گزاروں کے حق میں عبوری ریلیف دینے کا معاملہ بنتا ہے۔ عدالت نے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت کو بھی اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ دوسرے فریق کو نوٹس متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ذریعے پہنچانے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے ٹرائل مجسٹریٹ سے چالان کی زیراکس نقل بھی طلب کرلی ہے اور مقدمے کی مزید سماعت کے لیے 5 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رکشا بندھن پر سرحد کے محافظوں کی کلائی پر طالبات نے باندھی راکھی

عدالت نے ایک علیحدہ طریقۂ کار سے متعلق حکم میں چارج شیٹ نمبر 24/2026 مورخہ 18 جون 2026 کی مصدقہ نقل فوری طور پر پیش کرنے کی شرط بھی فی الحال ختم کردی، تاہم درخواست گزار کو دو ہفتوں کے اندر اس کی مصدقہ نقل عدالت میں داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔