ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں و کشمیر حکومت زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے، روح اللہ مہدی
روح اللہ مہدی نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب وعدوں کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے۔

Published : December 31, 2025 at 7:18 PM IST
جموں: (محمد اشرف گنائی) نیشنل کانفرنس کے ناراض رکنِ پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے پھر سے ایک بار نیشنل کانفرنس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا- انہوں نے جموں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت پر منتخب انہدامی کارروائیوں، ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ احتجاج اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔
روح اللہ مہدی جموں کے ٹرانسپورٹ نگر علاقے میں سوشل میڈیا صحافی عرفاز احمد ڈینگ کے منہدم شدہ مکان کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کی۔ انہوں نے حکومت پر متاثرہ خاندان کو راحت فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ روح اللہ مہدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود موقع پر آ سکتے تھے، جے ڈی اے افسران کو طلب کر کے یہ معلوم کر سکتے تھے کہ انہدامی کارروائی کا حکم کس نے دیا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ چاہتے تو سچ عوام کے سامنے آ سکتا تھا۔
انہوں نے کلدیپ شرما کی جانب سے عرفاز ڈینگ کے خاندان کو مکان کی تعمیر کے لیے پانچ مرلہ زمین دینے کی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک عام شہری محدود وسائل کے باوجود یہ قدم اٹھا سکتا ہے تو حکومت نے کیوں آگے بڑھ کر متاثرہ خاندان کی مدد نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں اور اسے نہ صرف اس خاندان کی مدد کرنی چاہیے تھی بلکہ مستقبل میں ایسی انہدامی کارروائیوں کو روکنے کے لیے بھی ٹھوس پالیسی بنانی چاہیے، خواہ وہ جموں ہو یا کشمیر کے گاندربل جیسے اضلاع۔ عرفاز ڈینگ کا مکان 27 نومبر کو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی جانب سے انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران مسمار کیا گیا تھا، جبکہ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے اسی مکان میں رہائش پذیر تھے اور انہیں کسی قسم کا پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا۔
روح اللہ مہدی نے حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اب وعدوں کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو حکومت عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آتی ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو وہی عوام اسے اقتدار سے باہر بھی کر سکتے ہیں۔
ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ منتخب حکومت کو کس نے روکا تھا کہ وہ احتجاجی طلبہ سے براہِ راست بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ فائل منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی تھی تو پھر طلبہ سے مکالمہ کیوں نہیں کیا گیا اور ان کے خدشات کو دور کیوں نہیں کیا گیا۔
روح اللہ مہدی نے اس موقع پر کابینہ وزیر جاوید رانا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل کابینہ وزیر جاوید رانا نے روح اللہ مہدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارٹی لائن پر کام نہیں کر رہے اور اگر وہ حکومت و پارٹی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اس بیان کے بعد نیشنل کانفرنس اور آغا روھلا کے اندرونی اختلافات مزید نظر سامنے آنے لگا

