ETV Bharat / jammu-and-kashmir

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا ڈاکٹروں پر دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے پر زور

وزیر اعلیٰ نے طبی سہولیات کو بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کے لوگوں تک پہنچانے پر زور دیا۔

Jammu and Kashmir CM Omar Urges Doctors to Serve Remote Areas
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا ڈاکٹروں پر دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے پر زور (ETV Bharat)
author img

By Muhammad Zulqarnain Zulfi

Published : September 3, 2026 at 7:43 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز حال ہی میں تقرر ہونے والے میڈیکل افسران پر زور دیا کہ وہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اپنی تعیناتی قبول کریں، یہ کہتے ہوئے کہ ڈاکٹر اکثر اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحات سے گزرنے والے لوگوں کے لیے امید کا آخری سہارا بن جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا ڈاکٹروں پر دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے پر زور (ETV Bharat)

سرینگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے نئے تعینات ہونے والے میڈیکل افسران میں تقرری نامے تقسیم کیے، عبداللہ نے کہا کہ ڈاکٹروں پر ایک ایسی ذمہ داری ہوتی ہے جو ان کے پیشہ ورانہ فرائض سے بھی آگے تک جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت کا انجام بالآخر انسان کے قابو سے باہر ہوتا ہے، لیکن مریض اور ان کے اہل خانہ اکثر ڈاکٹروں کا رخ اس وقت کرتے ہیں جب وہ ہر دوسرے راستے سے مایوس ہو چکے ہوتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو ڈاکٹر سرینگر اور جموں میں دستیاب سہولیات اور آسائشوں کے عادی ہو چکے ہیں، وہ شاید دور دراز کے علاقوں میں تعیناتی کو ہمیشہ خوش آئند نہ سمجھیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے ساتھ پورے خطے کے لوگوں کی خدمت کرنے کا فرض بھی جڑا ہوا ہے، بشمول ان علاقوں میں رہنے والے لوگ جہاں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی اب بھی محدود ہے۔

عبداللہ نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات صرف بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں رہ سکتیں، جب کہ دور دراز علاقوں کے باشندے بنیادی طبی خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہوں۔

مزید پڑھیں: جی ایم سی اننت ناگ کے احتجاجی انٹرن ڈاکٹروں سے اپنی پارٹی کا اظہارِ یکجہتی، جائز مطالبات فوری حل کرنے کا مطالبہ

انہوں نے سرینگر اور جموں کے ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی رش جزوی طور پر اس وجہ سے ہے کیونکہ اضلاع اور ذیلی اضلاع کے ہسپتالوں سے معمولی نوعیت کے کیسز بھی یہاں بھیج دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عام طبی معائنے اور سرجریز مریضوں کے گھروں کے قریب ہی انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عام زچگی (نارمل ڈیلیوری)، پتے کے آپریشن اور اپینڈکس کی سرجریز عام طور پر ضلع ہسپتالوں میں، اور جہاں سہولیات اجازت دیں، ذیلی ضلع ہسپتالوں میں ہی سنبھالی جانی چاہئیں۔


وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرینگر کے ہسپتالوں میں غیر ضروری ریفرل سے بڑے ہسپتالوں پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور ان کے لیے ان مریضوں پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے جنہیں خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ دور دراز کے طبی مراکز میں انفراسٹرکچر اور کام کے حالات کو بہتر بنائے تاکہ وہاں تعینات ڈاکٹر اپنے فرائض مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: جی ایم سی جموں میں جدید ای بی یو ایس سہولت کا آغاز، سانس کی پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں اہم پیشرفت

انہوں نے نئے تعینات ہونے والے میڈیکل افسران کو مبارکباد دی اور اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی یہ تقرر برسوں کی طبی تعلیم، تربیت، انٹرنشپ اور بھرتی کے عمل کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نے سبسڈی کے ذریعے طبی تعلیم میں سرمایہ کاری کی ہے اور میڈیکل کالجوں میں داخلے کی گنجائش کو بڑھایا ہے تاکہ عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جموں و کشمیر کو شہری مراکز اور دور دراز علاقوں کے درمیان صحت کی دیکھ بھال تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ سرینگر اور جموں کے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ضلع سطح پر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانا اب بھی اہم ہے۔

مزید پڑھیں:

بی جے پی جلوس کو تحفظ، این سی کارکنوں کے ساتھ سختی: عمر عبداللہ

نیشنل کانفرنس کا بی جے پی ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ: جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ