ETV Bharat / jammu-and-kashmir
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر میں احتجاج: ایل جی نے سیکوریٹی صورتحال کا لیا جائزہ، وادی میں پیر کو پابندیوں کا امکان
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

Published : March 1, 2026 at 10:53 PM IST
سری نگر : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے خلاف جموں و کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد انتظامیہ نے سیکیورٹی صورتحال کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیر کے روز سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وادی کے اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ سیکیورٹی ریویو میٹنگ کی۔ لیفٹیننٹ گورنر آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام طبقات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امن و سکون برقرار رکھیں۔ بیان میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قانون و نظم کی برقراری کے لیے کوششوں کو سراہا گیا۔
اطلاعات کے مطابق وادی کے میرواعظ میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر انتظامیہ احتیاطی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ اس کال کی حمایت سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور مذہبی رہنماؤں کی تنظیم متحدہ مجلس علما نے بھی کی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سری نگر کے مرکزی علاقے لال چوک میں پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جہاں اتوار کو خَمینی کی ہلاکت کے خلاف بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کے وہ اضلاع جہاں شیعہ آبادی نمایاں ہے، وہاں بھی ممکنہ مظاہروں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی سخت کی جا سکتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکنِ اسمبلی تنویر صادق نے ممکنہ پابندیوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اتوار کو ہزاروں افراد نے پُرامن انداز میں سوگ منایا اور ایک بھی قانون و نظم کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق سوگ منانا جرم نہیں اور مکمل امن کے باوجود پابندیاں عائد کرنا غیر ضروری اور نامناسب محسوس ہوتا ہے۔ تنویراصدیق نے مرکزی وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور لوگوں کو پُرامن اور باوقار انداز میں اپنے جذبات کے اظہار کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر ایران، لبنان اور یمن سے چوطرفہ جوابی حملے، قطر، بحرین، کویت اور یو اے ای پر بھی داغے میزائل
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جموں و کشمیر سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

