ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں و کشمیر میں منشیات کا بڑھتا رجحان شدید تشویش کا باعث: مفتی ناصرالاسلام
مفتی مولانا ناصرالاسلام نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو حد سے زیادہ آزادی دینا انہیں منشیات کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

Published : January 8, 2026 at 7:20 AM IST
جموں: ( محمد اشرف گنائی) ای ٹی وی بھارت کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جموں و کشمیر کے گرینڈ مفتی، مولانا ناصرالاسلام نے جموں کشمیر میں منشیات کے تیزی سے پھیلتے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی لت سماج کے لیے ناسور بنتی جا رہی ہے اور نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، جسے روکنے کے لیے فوری اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ مفتی ناصرالاسلام نے کہا کہ اگر معاشرہ، والدین، علما، انتظامیہ مل کر سنجیدہ کوششیں کریں تو منشیات کے اس عفریت کو شکست دی جا سکتی ہے اور نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔
مفتی مولانا ناصرالاسلام نے کہا کہ نوجوان لڑکے تیزی سے منشیات کی لت کا شکار ہو رہے ہیں، جو پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ متحد ہو کر منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد اور منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف بات کریں تاکہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
مولانا ناصرالاسلام نے خاص طور پر 17 سے 33 سال کی عمر کے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے استعمال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ منشیات کہاں سے آتی ہیں؟
اس دوران مفتی مولانا ناصرالاسلام نے والدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو حد سے زیادہ آزادی دینا انہیں منشیات کی لت کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منشیات کا عادی فرد پورے سماج کے لیے خطرہ بن جاتا ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور صحبت پر کڑی نظر رکھیں۔
انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں مزید سختی لائی جائے۔ انہوں نے منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی اپیل کی۔
قابل ذکر ہے کہ منشیات کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر جموں و کشمیر حکومت نے ایک منفرد اقدام کے تحت سری نگر ضلع میں تقریباً 100 مساجد کے ائمہ کو منشیات، خصوصاً ہیروئن کے نقصانات سے متعلق بیداری مہم میں شامل کیا ہے۔ یہ ائمہ جمعہ کے خطبات کے ذریعے عوام کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کریں گے اور سماجی سطح پر اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔
جموں کشمیر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 13 لاکھ افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں، جو گزشتہ تین برسوں میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ 2022 میں یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ تھی۔ حکام کے مطابق وادی میں ہیروئن سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات بن چکی ہے، جس کے عادی افراد کی شرح تقریباً 95 فیصد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات استعمال کرنے والوں کی اکثریت 15 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 85 فیصد منشیات کے عادی افراد ہیروئن کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سری نگر کے نشہ چھڑاؤ مرکز میں روزانہ 350 سے 400 مریض او پی ڈی میں رجوع کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر ہیروئن کے عادی افراد شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:
دہشت گردی کے بعد کشمیر میں منشیات سب سے بڑا چلینج بن گیا ہے، ڈی آئی جی شمالی کشمیر
جموں میں سال 2025 میں منشیات کے 311 ملزمان گرفتار، 35 خواتین منشیات فروش بھی شامل
دس کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین ضبط، منشیات کا سمگلرگرفتار
اننت ناگ پولیس کی منشیات کے خلاف بڑی کاروائی، رہائشی مکان سے 95 کلو فُکی ضبط

