ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ایران جنگ مشرق وسطیٰ تک پھیلنے سے بھارتی تارکین وطن کو سلامتی کے خدشات
امریکہ اسرائیل اور ایران کے مابین کشیدگی مشرق وسطیٰ تک پھیل گئی ہے۔

Published : March 2, 2026 at 6:22 PM IST
سرینگر: سعودی عرب میں مقیم ایک نوجوان بھارتی جوڑا اس ماہ تعطیلات کے لیے اپنے سفر کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ایک اور تارک وطن نے اپنی علیل والدہ سے ملاقات کے لیے بھارت جانے کی چھٹی کی درخواست دی تھی۔ تاہم ایسے کئی بھارتی تارکین وطن خلیجی ممالک میں پھنس کر رہ گئے ہیں، کیونکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی فضائی حملوں کے بعد دبئی کے مصروف ترین ہوائی اڈے سمیت متعدد ایئرپورٹس بند کر دیے گئے ہیں۔ تہران نے بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں پر بمباری کے ذریعے جواب دیا ہے جس سے تنازع مزید وسیع ہو گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں 90 لاکھ سے زائد بھارتی تاجرین، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر پیشوں سے وابستہ شہری ہیں۔ بھارت کی جانب سے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور خلیجی ممالک میں محتاط رہنے کی ہدایت کے بعد مدثر احمد نامی ایک بھارتی شہری نے کہا کہ انہوں نے اپنا سفری منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔
مدثر نے ای ٹی وی بھارت کو فون پر بتایا: ’’ہم ٹکٹ بک کرنے ہی والے تھے کہ ایڈوائزری جاری ہو گئی۔ ہم محفوظ ہیں اور کمیونٹی گروپس کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، لیکن حملوں سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ہم جیسے کئی افراد پابندیوں کے باعث ملک سے باہر نہیں جا سکتے اور یہ صورتحال ہمیں اندر ہی اندر پریشان کر رہی ہے۔"
وزارتِ خارجہ نے ایران سمیت خلیجی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئرپورٹ کے قریب مقیم ایک بھارتی ٹیچر نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد آسمان پر دور سے اٹھتا دھواں دیکھ کر ان کے بچے خوف سے چیخ اٹھے۔
مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ ایک دہائی سے مقیم ایک تاجر نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا: ’’دھماکوں کے بعد احساس ہی بدل گیا، میں خود کو یہاں ایک مہاجر محسوس کر رہا ہوں۔‘‘
کئی افراد نے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کیا اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے انخلا کی اپیل کی۔ ایران میں پھنسے متعدد بھارتی طلبہ نے بھی سوشل میڈیا پر جذباتی ویڈیوز شیئر کیں اور اپنی سلامتی کے حوالہ سے خدشات ظاہر کیے۔
ایران میں اس وقت 600 سے 700 بھارتی طلبہ ہیں، جن میں اکثریت جموں و کشمیر کی ہے۔ دھماکوں میں شدت آنے کے بعد انخلا کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ وزارت خارجہ سے رابطے میں ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ فضائی حدود اور سرحدیں کھلنے کے بعد انخلاء کا عمل شروع کیا جائے گا۔ وہیں اس صورتحال کے بیچ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور عراق، آرمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ سرحدیں بھی سیل کر دی ہیں۔
روح اللہ نے کہا: ’’تب تک تمام طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ ممکن ہو تو انخلاء کے لیے قم شہر میں جمع ہو جائیں۔‘‘
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے کہا کہ بھارتی سفارت خانے کی جانب سے منتقلی کا عمل منگل کی صبح سے شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلبہ، جن کی بڑی تعداد تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیر تعلیم ہے، کو منگل کی صبح سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

