ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بھارت امریکہ تجارتی معاہدے یکطرفہ، کشمیر کی فروٹ انڈسٹری ہوگی متاثر ہوگی، محمد یوسف تاریگامی

تاریگامی نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات سے کسانوں کو کے سی سی قرضوں پر ایک مرتبہ ریلیف دیا جانا چائیے۔

بھارت امریکہ تجارتی معاہدے یکطرفہ، کشمیر کی فروٹ انڈسٹری ہوگی متاثر ہوگی، محمد یوسف تاریگامی
بھارت امریکہ تجارتی معاہدے یکطرفہ، کشمیر کی فروٹ انڈسٹری ہوگی متاثر ہوگی، محمد یوسف تاریگامی (Image: ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 27, 2026 at 8:58 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر( پرویز الدین ): سی پی آئی (ایم) کے سنئیر رہنما اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کو یکطرفہ معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے جموں کشمیر میں خاص کر کشمیر کی فروغ انڈسٹری سخت متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بازاروں میں امریکی درآمدات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ ان باتوں کا اظہار ایم آئی تاریگامی نے جمعہ کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔


انہوں نے کہ ہمارے پاس روزگار کے مواقع بہت کم رہ گئے ہیں۔ اس خطے میں انڈسٹریز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری نوکریاں بھی بہت کم ہیں، قالین اور دیگر دستکاری صنعتیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں جبکہ شعبہ سیاحت بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ زرعی سیکٹر خاص پر فورٹ انڈسٹری دیہی علاقوں میں روز گار کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔

انہوں نے کہا جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو سیب کاشتکاروں کو بہت زیادہ سبسڈی دیتا ہے جبکہ جموں وکشمیر، ہماچل پردیش اور اترا کھنڈ کے سیب کاشتکاروں کو کوئی سبسڈی نہیں ملتی ہے بلکہ انہیں کھاد اور دیگر زرعی خاصی مہنگی ملتی ہیں۔ ایسے میں اس معاہدے سے سیب صنعت کو بڑے پیمانے پر خسارے کا امکان ہے۔ کیونکہ جو درآمدات امریکہ سے آئیں گے ان پر صفر ٹیکس ہوگا اور امریکہ سے بڑی تعداد میں سیب، اخروٹ وغیرہ آنے کے امکانات ہیں۔

تاریگامی نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات سے کسانوں کو کے سی سی قرضوں پر ایک مرتبہ ریلیف دیا جانا چائیے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے متعلق مسئلہ ہماری روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والا مسئلہ ہے۔ کسان کے نقصان سے ہماری معیشت ڈوب جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ طور پر ہماچل پردیش، اترا کھنڈ اور جموں و کشمیر کے اپیل فیڈریشن مارچ میں دلی میں احتجاجی دھرنا دیں گے اور ہم ملک کی دیگر بڑی کسان تنظمیوں سے بھی ایپل کرتے ہیں کہ وہ ہماری حمایت کریں۔