ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ماہ مقدس رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان

مقامی افراد کے مطابق رمضان میں عبادت گاہوں کے باہر بھکاریوں میں ایک بڑی تعداد غیر ریاستی افراد کی ہوتی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

مقدس ماہ رمضان میں پیشہ ور بھکاریوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان
مقدس ماہ رمضان میں پیشہ ور بھکاریوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 21, 2026 at 10:38 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ: (میر اشفاق) ماہ مقدس رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں عبادات، خیرات اور ہمدردی کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں بعض عناصر اس بابرکت مہینے کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مساجد، درگاہوں، پیٹرول پمپس، سرکاری و نجی دفاتر کے باہر اور گلی کوچوں میں بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

مقدس ماہ رمضان میں پیشہ ور بھکاریوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان (ETV Bharat)

پانچوں اوقات کی نماز میں مساجد اور درگاہوں کے باہر منظم انداز میں بھیک مانگنے والے گروہ جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر خواتین اور بچوں کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف سماجی مسئلہ ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے نام پر استحصال کی ایک صورت بھی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ ہجوم بعض اوقات رقم طلب کرنے کے لیے پیچھے پڑ جاتا ہے اور انکار کی صورت میں بدتمیزی یا ہراسانی کا رویہ بھی اختیار کرتا ہے۔

ذی شعور افراد کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں عبادت گاہوں کے باہر بھکاریوں کی بڑھتی تعداد جن میں خاصی تعداد غیر ریاستی بھکاریوں کی ہوتی ہے، ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اس ماہ میں جھنڈ کی صورت میں یہ اچانک کہاں سے نمودار ہوتے ہیں، ان کو کون یہاں لاتا ہے، ایک منظم مافیہ گروہ بھی اس کے پیچھے ہو سکتا ہے، بد قسمتی سے اس طرف انتظامیہ کا کوئی دھیان نہیں ہے، اس لیے انتظامیہ کو اس پر غور کرانا چاہیے، کیونکہ ان کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے بلکہ مستحق افراد بھی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادی کشمیر میں غیر ریاستی بھکاریوں کی بھرمار سے عوام پریشان


مولوی غلام نبی راتھر کا کہنا ہے کہ رمضان سخاوت اور ضرورت مندوں کی مدد کا مہینہ ہے، لیکن پیشہ ور بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اصل مستحقین کے حق پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ منظم بھیک مانگنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور حقیقی مستحق افراد کی شناخت کے لیے موثر نظام وضع کرے۔ ساتھ ہی عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی زکوٰۃ و صدقات معتبر فلاحی اداروں کے ذریعے تقسیم کریں تاکہ امداد صحیح ہاتھوں تک پہنچ سکے۔


ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف شہری زندگی میں خلل کا باعث بنے گا بلکہ معاشرتی نظم و ضبط پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ رمضان کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی شعور اور انتظامی سنجیدگی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں:

گداگروں کی باز آبادکاری کے لیے سرینگر میں "سمائل ہوم" کا قیام