ETV Bharat / jammu-and-kashmir

سرکاری تاخیر اور بینک رکاوٹیں، جموں کشمیر میں بزرگ شہری پنشن سے ’محروم‘

ضلع سطح پر بل میں التوا، افسران کی تعیناتی میں تاخیر اور لائف سرٹیفکیٹ جیسے مسائل بزرگوں کو پنشن سے دور رکھے ہوئے ہیں۔

جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کابینہ وزراء ساتھ ایک پروگرام کے دوران
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کابینہ وزراء ساتھ ایک پروگرام کے دوران (فائل فوٹو: آئی اے این ایس)
author img

By Mir Farhat Maqbool

Published : December 31, 2025 at 7:20 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جہاں ایک جانب دنیا بھر میں نئے سال کی آمد کے پیش نظر جشن منایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب جموں و کشمیر کے پنشن یافتہ بزرگ اپنی ماہانہ پنشن اور مالی مدد کے منتظر ہیں تاکہ وہ سردیوں کے سخت ترین ایام میں اپنے گھر کا چولہا گرم رکھ سکیں۔ حکام نے اس تاخیر کی وجہ متعلقہ افسران کی تعیناتی میں دیری اور ضلع سطح پر ہوئی تاخیر قرار دی ہے۔

سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے انٹیگریٹڈ سوشل سکیورٹی اسکیم (ISSS) کے تحت جموں و کشمیر میں 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو ماہانہ امداد دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم سے بزرگ، بیوائیں، خواجہ سرا، معذور افراد اور پریشان حال خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ وادی میں پنشن یافتہ بزرگ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ مستفید ہونے والے باقی افراد میں بیوائیں، معذور اور دیگر کمزور طبقے شامل ہیں۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پنشن میں تاخیر چیف اکاؤنٹس افسران کی حالیہ تبادلوں کے بعد ہوا۔ نیا CAO پہلے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں تھا، لیکن جس افسر کو ان کی جگہ لینی تھی انہوں نے ابھی تک جوائن نہیں کیا ہے۔

افسر کے مطابق، ’’یہ سرکاری عمل کی تاخیر ہے، جس کے باعث پہلے سے منظور شدہ بل بھی ضلع خزانے میں پڑے ہوئے ہیں اور ادائیگی نہیں ہو سکی۔‘‘

جموں و کشمیر حکومت ISSS کے تحت ہر سال 2,200 کروڑ روپے امداد تقسیم کرتی ہے، جس میں سے 1,800 کروڑ روپے صرف اولڈ ایج پنشن کے لیے مختص ہیں۔ حکام کے مطابق ’’ہر ماہ ہمیں جموں و کشمیر میں مستفید ہونے والوں کے لیے 140 کروڑ روپے کا انتظام کرنا ہوتا ہے، جبکہ ایک فرد کو 1,200 سے 2,000 روپے کے درمیان امداد ملتی ہے۔ یہ رقم کئی دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے، جہاں امداد 300 سے 1,000 روپے تک ہی ہوتی ہے۔‘‘

مستفید ہونے والے کئی افراد نے بتایا کہ اکتوبر کے بل نئے CAO کی تعیناتی اور خزانے کی منظوری کے بعد ادا کیے گئے۔ ایک سال پہلے ڈیپارٹمنٹ نے جعلی اندراجات کو چھانٹنے کا شروع کیا تھا، جس دوران لوگوں کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے آدھار، راشن کارڈ اور دیگر کاغذات پیش کرنے پڑے، اور اس عمل میں مہینوں لگ گئے، جس سے ادائیگی مزید تاخیر کی شکار ہوئی۔

اسی طرح ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن بھی بینکوں کی طرف سے لائف سرٹیفکیٹ جمع نہ ہونے کے باعث رکی پڑی ہے۔ ملازمین یونین کے سابق رہنما عبدالقیوم وانی کے مطابق جموں و کشمیر کے 60 ہزار پنشن یافتہ افراد مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، جبکہ سبھی بزرگوں کی پنشن بینکوں نے لائف سرٹیفکیٹ کے جمع نہ کرنے بہانے روکی ہوئی ہے۔

لائف سرٹیفکیٹ ایک قانونی شرط ہے جس سے بینک کو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پنشن لینے والا زندہ ہے۔ پہلے یہ عمل جسمانی حاضری سے ہوتا تھا، جسے بعد میں ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ سسٹم میں تبدیل کیا گیا، جسے ’’جیون پرمان‘‘ کہا جاتا ہے، تاکہ بزرگوں کو آسانی ہو اور انہیں افسر کے سامنے حاضر نہ ہونا پڑے۔

قیوم وانی کے مطابق: ’’یہ عمل آسان تو ہے، لیکن جن بزرگوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا علم نہیں، انہیں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے لائف سرٹیفکیٹ جمع تو کیا ہے لیکن پھر بھی بینکوں نے پنشن روک رکھی ہے۔‘‘ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک رہنما اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’لائف سرٹیفکیٹ اپڈیٹ کرنا بینکوں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ پنشن یافتہ شخص کی۔‘‘

ان کے مطابق ’’بینکوں کو ان بزرگوں کی مدد کرنی چاہیے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے ناواقف ہیں، لیکن بینک یہ بوجھ بھی بزرگوں پر ڈال کر اپنا پلو جھاڑ رہے ہیں۔‘‘

ایک بینک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’برانچ سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بزرگوں کی مدد کریں، تاکہ ان کے روزگار کا واحد سہارا -پنشن - تاخیر کا شکار نہ ہو۔‘‘ ادھر، سوشل ویلفیئر کی وزیر سکینہ ایتو نے نمائندے کے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ تاہم، نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے یقین دہانی کی کہ وہ ’’یہ معاملہ وزیر تک پہنچائیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:

کیا پرانی پنشن اسکیم واپس آئے گی؟ پارلیمنٹ میں پوچھا گیا سوال