ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'اگر لداخ کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں'، محبوبہ مفتی نے کی سیاسی اتحاد کی اپیل
لداخ کی سیاسی یکجہتی کی مثال دیتے ہوئے محبوبہ نے خط لکھ کر تمام جماعتوں سے مرکز کے ساتھ مشترکہ مذاکرات کی اپیل کی۔

Published : June 2, 2026 at 1:11 PM IST
سرینگر: لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیش رفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔
اپنے خط میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا: "وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔"
کن جماعتوں کو لکھے گئے خطوط
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔
محبوبہ مفتی نے کہا:"’ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔
"علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لیے خاص طور پر 2019 کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔"
'عمر عبداللہ کی حمایت ناگزیر'
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ نے کہا کہ "اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لیے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔" ان کے مطابق موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔
محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019 میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔
پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020 میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔
گپکار الائنس
24 اگست 2021 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کی دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کے بعد پی اے جی ڈی کے پہلے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلوں کے ذریعے بھارتی آئین کے تحت جموں کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات - دفعہ 370 اور 35 اے کو غیر مؤثر بنانا اور تاریخی ریاست کو تقسیم کرکے جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکزی زیر انتظام علاقے (یونین ٹیریٹریز) بنانا ایک بڑا سیاسی خلا اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان فیصلوں کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں دو سال گزرنے کے باوجود زیرِ سماعت ہیں۔
یہ اجلاس سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی گپکار روڈ پر واقع رہائش گاہ پر منعقد ہوا تھا۔ اس وقت تک سجاد غنی لون کی قیادت والی پیپلز کانفرنس اتحاد سے الگ ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:

