ETV Bharat / jammu-and-kashmir

تاریخی درگاہ شاہدرہ شریف، بابا غلام شاہ بادشاہؒ، سدا بہار درخت، سنتروں کی مقدس روایت اور 24 گھنٹے لنگر کی خدمت

درگاہ شاہدرہ شریف میں زائرین کیلئے 24 گھنٹے لنگر کا انتظام دستیاب رہتا ہے، جس کا ماہانہ خرچ تیس سے چالیس لاکھ ہے۔

تاریخی درگاہ شاہدرہ شریف، بابا غلام شاہ بادشاہؒ، سدا بہار درخت، سنتروں کی مقدس روایت اور 24 گھنٹے لنگر کی خدمت
تاریخی درگاہ شاہدرہ شریف، بابا غلام شاہ بادشاہؒ، سدا بہار درخت، سنتروں کی مقدس روایت اور 24 گھنٹے لنگر کی خدمت (ETV BHARAT)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : December 29, 2025 at 5:16 PM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں، راجوری ( محمد اشرف گنائی، جہانگیر خان ): سرحدی ضلع راجوری کے پہاڑی علاقے تھنہ منڈی کے قریب واقع تاریخی درگاہ شاہدرہ شریف برصغیر کے اہم روحانی مراکز میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ مقدس درگاہ عظیم صوفی بزرگ بابا غلام شاہ بادشاہؒ سے منسوب ہے اور صدیوں سے عقیدت مندوں کے لیے روحانی سکون، فیض اور عقیدت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ درگاہ کی سب سے منفرد اور عالمی سطح پر مشہور پہچان اس کے احاطے میں موجود سنترے کا درخت ( سدا بہار درخت) اور سنتروں کی وہ مقدس روایت ہے جو بابا صاحبؒ کی کرامت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔


مقامی روایات کے مطابق ایک مرتبہ بابا غلام شاہ بادشاہؒ آگ کے قریب تشریف فرما تھے کہ لکڑی کا ایک ٹکڑا آگ میں ڈالنے کے باوجود بالکل نہ جلا۔ اس پر بابا صاحبؒ نے ارشاد فرمایا: بالدی نہیں تے پھلدی رو” (اگر جل نہیں سکتی تو پھلتی پھولتی رہو) اور وہ لکڑی ایک طرف پھینک دی۔ عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ یہی لکڑی بعد میں ایک ایسے سدا بہار پھل دار درخت میں تبدیل ہو گئی جو موسموں کی تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر سال بھر پھل دیتا ہے۔ اس درخت پر لگنے والے پھل پکنے پر نارنجی یا زرد رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ بعض سبز بھی رہتے ہیں۔


یہ روایت بھی عام ہے کہ ان پھلوں کو کوئی شخص خود نہیں توڑ سکتا اور نہ ہی درخت سے اتار سکتا ہے، بلکہ یہ صرف اسی وقت تبرک کے طور پر قبول کیے جاتے ہیں جب وہ خود بخود زمین پر گر جائیں۔ تاہم زیارت میں موجود امام طاہر حسین شان نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے ان روایات کی تردید کی اور کہا کہ یہ درخت بابا غلام شاہ جی نے لگایا ہے اور یہ سال بھر ہرا رہتا ہیں لیکن جو کچھ لوگوں کا عقیدہ ہیں کہ اس درخت کے نیچے بیٹھنے سے عقیدہ پورا ہوتا ہیں وہ غلط ہیں۔

تاریخی درگاہ شاہدرہ شریف، بابا غلام شاہ بادشاہؒ، سدا بہار درخت، سنتروں کی مقدس روایت اور 24 گھنٹے لنگر کی خدمت (ETV BHARAT)


درگاہ شاہدرہ شریف کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہاں جاری چوبیس گھنٹے مفت لنگر خانہ ہے، جہاں زائرین اور مسافروں کے لیے دن رات کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ درگاہ انتظامیہ اور عقیدت مندوں کے تعاون سے چلنے والا یہ لنگر بلا تفریق مذہب، ذات یا علاقے کے ہر آنے والوں کے لیے کھلا ہے۔ زائرین کے مطابق یہاں دوپہر اور رات کے کھانے کا مستقل بندوبست رہتا ہے، جس سے دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو بڑی سہولت ملتی ہے۔آج درگاہ شاہدرہ شریف مذہبی ہم آہنگی، امن اور روحانی فیض کا ایک اہم مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں سدا بہار درخت، سنتروں کی مقدس روایت اور 24 گھنٹے جاری لنگر خانہ بابا غلام شاہ بادشاہؒ کی ولایت، کرامت اور خدمتِ انسانیت کی عظیم روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔



لنگر خانے کے منشی محمد یوسف تفصیلات فراہم کرتے ہوئے ائ ٹی وی بھارت کے نمائندے کو بتایا کہ لنگر خانے میں اتوار اور جمعرات کے دن سولہ ہزار زائرین خانہ کھاتے ہیں جبکہ عام دنوں میں پندرہ سو سے لیکر دو ہزار تک کی تعداد میں زائرین لنگر کھاتے ہیں۔



ضلع راجوری کے اوقاف ایڈمنسٹریٹر عبدل قیوم نے ائ ٹی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس چوبیس گھنٹے مفت چلنے والے لنگر کا خرچہ چالیس لاکھ ایک مہینے کا ہیں جو کہ زیارت میں آنے والے رقم کے برابر ہیں انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کا 30 سے چالیس لاکھ زائرین نیاز کے طور پر رقم دیتے ہیں اور وہ لنگر خانے پر خرچ ہوتا ہیں۔



درگاہ شاہدرہ شریف کی روحانی اہمیت کے باعث کشمیر، جموں اور ملک کی دیگر ریاستوں سے بھی بڑی تعداد میں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔ عقیدت مند طویل سفر طے کر کے اس مقدس مقام پر پہنچتے ہیں اور دعا، نیاز اور تبرک کے ذریعے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔

بابا غلام شاہ بادشاہؒ کا اصل نام سید غلام علی شاہ مشہدی تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق مشہد (ایران) سے تھا، اسی نسبت سے آپ مشہدی کہلائے۔ آپ کے دادا پیر یار علی شاہؒ، جو طاہر پرندہ کے نام سے مشہور تھے، سولہویں صدی کے وسط میں اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں مشہد سے ہجرت کر کے موجودہ پاکستان کے ضلع چکوال کے گاؤں سیداں قصروان میں آباد ہوئے۔ آپ کے والد سید ادریس شاہؒ اور دادا دونوں کے مزارات آج بھی اسی علاقے میں موجود ہیں، جہاں ایک وسیع قبرستان صدیوں پر محیط مشہدی سادات کی تاریخ کا گواہ ہے۔

روایات کے مطابق سن 1159 ہجری میں بابا غلام شاہ بادشاہؒ کو ان کے والد سید ادریس شاہؒ اپنے مرشد سید لطیف حسین شاہؒ المعروف امام بریؒ کے حضور نورپور شاہاں لے گئے۔ بابا صاحبؒ کو دیکھ کر امام بریؒ نے پیش گوئی کی کہ یہ بچہ اپنے وقت کا عظیم ولی بنے گا، “سین دارہ” کو شاہدرہ شریف میں تبدیل کرے گا اور کشمیر کے پہاڑوں میں قیام کرے گا۔ بعد ازاں بابا صاحبؒ نے کم عمری میں ہی اپنے مرشد کی خدمت میں دو سال گزارے جہاں آپ کو باطنی علوم اور روحانی اسرار سے نوازا گیا۔

روایات کے مطابق حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (غوثِ اعظمؒ) بغداد سے روحانی حکم کے ذریعے بابا غلام شاہ بادشاہؒ کو کشمیر کے پہاڑی علاقے “سین دارہ” میں تبلیغِ اسلام اور خدمتِ خلق کی ذمہ داری سونپی گئی۔ خوابوں کے ذریعے مقام کی نشاندہی کے بعد بابا صاحبؒ نے دس برس کی عمر میں راجوری کے شمالی علاقے تھنہ منڈی کے قریب اس مقدس مقام کی طرف سفر کیا، جو بعد میں شاہدرہ شریف کے نام سے مشہور ہوا۔