ETV Bharat / jammu-and-kashmir
بلڈوزر کارروائی کے بعد ہندو سابق فوجی نے مسلمان صحافی کو 5 مرلہ زمین عطیہ کردی
جموں میں منہدم گھر کے ملبے پر انسانی ہمدردی کی مثال سامنے آئی ہے۔ مسلمان صحافی کی مدد کے لیے سابق ہندو فوجی آگے آگیا۔

Published : November 28, 2025 at 5:50 PM IST
جموں( محمد اشرف گنائی): ایک ہندو سابق فوجی نے مذہبی ہم آہنگی اور انسانیت کی عظیم مثال پیش کی ہے۔ جمعرات کو سابق فوجی نے صحافی ارفاز احمد کو پانچ مرلہ زمین عطیہ کردی۔ جموں ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے صحافی ارفاز کے گھر پر بلڈوزر چلایا گیا تھا۔ عرفاز اور ان کے اہل خانہ گزشتہ دو روز سے آسمان تلے رہنے پر مجبور تھے۔
ریٹائرڈ فوجی اہلکار کلدیپ شرما اپنی بیٹی تانیا شرما کے ہمراہ متاثرہ خاندان تک پہنچے اور قانونی دستاویزات کے ساتھ امگرودھا جموں میں 5 مرلہ اراضی ارفاز احمد دینگ کے نام کرنے کا اعلان کیا۔ منہدم گھر کے ملبے پر بیٹھے ہوئے کلدیپ شرما نے ای ٹی وی بھارت کو کہا کہ “ہم نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں سنا۔ جب پتہ چلا کہ ایک صحافی اور اس کا خاندان بے گھر ہوگیا ہے، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ انہیں زمین دیں تاکہ وہ دوبارہ اپنا گھر بنا سکیں۔ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، مذہب کا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مکان کو گرانا ایک امتیازی سلوک ہے اور یہ مکان جان بوجھ کر گرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا گھر صرف 3 مرلہ پر تھا، جسے مسمار کر دیا گیا۔ لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ 5 مرلہ زمین دیں گے تاکہ وہ عزت کے ساتھ رہ سکیں۔ ہم سیاستدانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانوں کو تقسیم نہ کریں، بھائی چارے کو کمزور نہ کریں۔ اگر یہ سیاست یونہی جاری رہی تو ہم ووٹ نہیں دیں گے۔
اس دوران کٹرا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس نشستوں کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ شری ماتا ویشنودی یونیورسٹی میں جن مسلم طلبہ کا داخلہ ہوا ہے وہ اپنی محنت سے ہوا ہیں انہوں نے انٹرنس اگزامینیشن میں کامیابی حاصل کی ہیں لہذا اس پر کسی کو بھی سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے
جموں ناروال میں قائم صحافی ارفاز احمد دینگ کا گھر جمعرات کے روز جے ڈی اے اور ضلع انتظامیہ نے بھاری پولیس تعیناتی کے درمیان مسمار کر دیا۔ واقعہ کے دوران ارفاز اور ان کے دو بھائیوں کو حراست میں لیا گیا اور انہیں لائیو رپورٹنگ کرنے سے روکا گیا۔ ارفاز دینگ کا کہنا ہے کہ میرا گھر 40 سال پرانا تھا، یہ ایک منتخب کارروائی تھی۔ صرف میرا ہی گھر کیوں گرایا گیا؟ کیا پورے جموں میں صرف میرا گھر غیر قانونی تھا؟ یہ آزاد صحافت کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔”
واقعہ نے سیاسی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے مسمار ہوئے گھر کو دیکھنے اور متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی کرنے کی غرض سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما وہاں پہنچے، جن میں نیشنل کانفرنس، ہھارتیہ جنتا پارٹی ،کانگریس، پی ڈی پی و دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین شامل ہیں۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھا کہ یہ یوپی یا دوسری جگہوں کی طرح مجبور مسلم خاندانوں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ جموں کشمیر میں ایک صحافی کے گھر کو چند سیکنڈ میں ملبے میں بدل دیا گیا۔”
نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے سجاد شاہین نے بیان دیا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ بغیر نوٹس ایک صحافی کے گھر کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ فوری نوٹس لیں۔
کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ غیر انسانی، ظالمانہ اور میڈیا پر حملہ ہے۔ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دیا جائے۔
وہیں دوسری جانب جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے اس انہدامی کارروائی کے بارے میں کوئی بھی بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے
یہ بھی پڑھیں:

