ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'جان کا خطرہ' ہائی کورٹ نے 14سالہ زیادتی متاثرہ کو اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ 27 ہفتے کے حمل کا اسقاط جان لیواہو سکتا ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : May 22, 2026 at 12:18 PM IST
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت کسی نابالغ لڑکی کو حاصل تولیدی خودمختاری اُس وقت طبی حقائق پر فوقیت نہیں رکھ سکتی جب حمل ختم کرنے سے اُس کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو۔ عدالت نے جنوبی کشمیر کے کولگام کی 14 سالہ مبینہ زیادتی متاثرہ لڑکی کے 27 ہفتے کے حمل کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
23 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس وسیم صادق نرگل نے سرینگر بینچ میں کہا کہ آئینی عدالتیں ماہر ڈاکٹروں کی اُس رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتیں جس میں حمل کے اس مرحلے پر اسقاط حمل کو خطرناک قرار دیا گیا ہو، خاص طور پر جب ڈاکٹروں کے مطابق اس سے زچگی کے دوران سنگین پیچیدگیاں اور مستقبل میں تولیدی صحت کو مستقل نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
تاہم عدالت نے "پیرنس پیٹریا" کے اصول کا استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ نابالغ متاثرہ لڑکی اور پیدا ہونے والے بچے کو مکمل طبی سہولیات، کونسلنگ، تحفظ اور بازآبادکاری فراہم کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "اگر نومولود کو گود دینے کی ضرورت پیش آئے تو اس سے متعلق تمام کارروائی جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت انجام دی جائے۔"
کورٹ کا یہ فیصلہ متاثرہ کے والد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا۔ متاثرہ مبینہ طور زیادتی کے بعد حاملہ ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن ڈی ایچ پورہ، کولگام میں ایف آئی آر نمبر 38/2026 پہلے ہی درج کی جا چکی تھی اور ملزم عدالتی تحویل میں بتایا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق جب درخواست عدالت میں دائر کی گئی تب حمل 25 ہفتے اور پانچ دن سے تجاوز کر چکا تھا۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کولگام نے لڑکی کو "دیکھ بھال اور تحفظ کی محتاج بچی" قرار دیتے ہوئے فوری قانونی اور طبی مداخلت کی سفارش کی تھی۔
درخواست گزار نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ 1971 کے تحت مقررہ مدت سے زیادہ ہونے کے باوجود حمل ختم کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حمل جاری رہنے سے بچی کی ذہنی و جسمانی صحت، تعلیم اور مستقبل بری طرح متاثر ہوگا۔
درخواست گزار کی وکیل آصفہ رشید نے عدالت میں دلیل دی کہ 14 سالہ زیادتی متاثرہ لڑکی کو حمل جاری رکھنے پر مجبور کرنا آرٹیکل 21 کے تحت اُس کے "حق زندگی، وقار اور جسمانی خودمختاری" کی خلاف ورزی ہوگی۔
ہائی کورٹ نے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور ہدایت جاری کی کہ وہ جائزہ لے کہ کیا حمل محفوظ طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ بعد میں میڈیکل بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ حمل کے اس مرحلے پر اسقاطِ حمل سے "انتہائی سنگین طبی پیچیدگیوں" کا خطرہ ہے اور اس سے نابالغ لڑکی کی جان بھی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں بورڈ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ حمل ختم کرنے کی کوشش کے نتیجے میں طویل اور ناکام زچگی عمل، رحم نکالنے کی نوبت، شدید خون بہنا، انفیکشن، آئی سی یو میں داخلے کی ضرورت، کئی بار خون کی منتقلی اور مستقبل میں بانجھ پن جیسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بورڈ نے بچے کے لیے بھی سانس کی شدید تکلیف اور پیدائش کے فوراً بعد موت کے خطرات ظاہر کیے۔
جسٹس نرگل نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک حالیہ فیصلے سے موجودہ معاملے کو مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُس کیس میں میڈیکل بورڈ نے نابالغ لڑکی کو اس عمل کے لیے جسمانی طور پر موزوں قرار دیا تھا۔ عدالت نے کہا: "حمل ختم کرنے کا حق ایک مکمل اور غیر محدود حق نہیں سمجھا جا سکتا جو طبی حقائق اور ماہرین کی رائے سے الگ ہو۔"
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالتیں طبی ماہرین کی رائے کی جگہ اپنی رائے نہیں دے سکتیں۔ جسٹس نرگل نے کہا: "عدالتوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ماہر اور سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے نافذ کریں، کیونکہ یہی ماہرین ایسے معاملات کی طبی موزونیت، حفاظت اور نتائج کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"
عدالت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات نابالغ حاملہ لڑکی کی جان کا تحفظ ہے۔ فیصلے میں کہا گیا، "محض ہمدردی کی بنیاد پر ایسا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا جس سے متعلقہ شخص کی جان خطرے میں پڑ جائے۔"
"پیرنس پیٹریا" کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جب ایک طرف نفسیاتی صدمہ اور دوسری طرف طبی خطرہ موجود ہو تو زندگی کا تحفظ ترجیح ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ حمل اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بچے کی نشوونما کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور اسقاطِ حمل خود ایک پیچیدہ اور خطرناک طبی عمل بن گیا ہے۔
درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے گورنمنٹ لل دید ہسپتال کو ہدایت دی کہ متاثرہ لڑکی کو زچگی سے پہلے اور بعد میں مفت علاج، ادویات، تمام ٹیسٹ، خوراک اور کونسلنگ فراہم کی جائے۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو تمام علاج اور زچگی سے متعلق انتظامات کی نگرانی کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا۔
عدالت نے سرینگر اور کولگام کے متعلقہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے پر متاثرہ کو مکمل سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے اور اُس کی شناخت اور طبی حالت کو مکمل خفیہ رکھا جائے۔
اس کے علاوہ عدالت نے مشن وتسالیہ، چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ نومولود کی دیکھ بھال اور اگر ضرورت ہو تو گود لینے سے متعلق تمام قانونی کارروائی جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت مکمل کی جائے۔ جسٹس نرگل نے کہا کہ جووینائل جسٹس کا نظام جنسی زیادتی کے متاثرہ بچوں سمیت ایسے تمام بچوں کی دیکھ بھال، تحفظ اور بازآبادکاری کے لیے ایک جامع اور بچوں پر مبنی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے فیصلے کے اختتام پر گورنمنٹ لل دید ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، مشن وتسالیہ کے نوڈل افسر اور کولگام و سرینگر کے ایس ایس پیز کو ہدایت دی کہ متاثرہ لڑکی اور بچے کی صحت، فلاح اور بازآبادکاری سے متعلق ماہانہ رپورٹیں عدالت میں پیش کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:

