ETV Bharat / jammu-and-kashmir
وادیٔ کشمیر میں آبی کھیلوں کی جانب نوجوانوں کا بڑھتا یہ جنون کیسا
پکھربل میں منعقدہ 20 روزہ واٹر اسپورٹس کوچنگ کیمپ میں سرینگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل اور بڈگام کے تقریباً 80 نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔

Published : July 12, 2026 at 11:27 AM IST
سرینگر (پرویز الدین): گذشتہ چند برسوں کے دوران وادی کشمیر کے لڑکے اور لڑکیاں جہاں روایتی اسپورٹس سے ہٹ کر دیگر کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصے لے رہے ہیں۔ وہیں اب واٹر اسپورٹس میں بھی یہاں کے نوجوان بڑی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ کیاکنگ ہو یا کینوینگ دونوں کی طرف بچے راغب ہو رہے ہیں۔ایسے میں باصلاحیت اور ہنرمند کھلاڑی آبی کھیل مقابلوں میں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منا رہے ہیں۔
اگرچہ پہلے پہل جھیل ڈل اور اس کے گردوانوح میں رہنے والے بچے ہی زیادہ تر آبی کھیلوں مقابلوں میں حصے لیتے تھے، لیکن اب دیگر اضلاع کے بچے بھی اس سپورٹس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایسے میں پکھربل کے 20 روزہ اس واٹر اسپورٹس کوچنگ کیمپ میں سرینگر سمیت بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل اور بڈگام کے تقریباً 80 نوجوان کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ نہ صرف اسکولی بچے بلکہ وہ نوجوان کھلاڑی بھی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اس کمیپ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جو کہ پہلے ہی آبی کھیل مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ اس واٹرس سپورٹس کیمپ میں تیراکی سے لے کر کیاکینگ، کینوئینگ، اور روئنگ کی پیشہ ورانہ تربیت دی جا ری ہے۔

بارہمولہ کے نوجوان کھلاڑی نعیم نثار کا کہنا ہے کہ یہ واٹر سپورٹس کمیپ ہمارے لیے کافی سود مند ثابت ہو رہا ہے۔ ہمیں یہاں بہترین کوچنگ میسر ہو پا رہی ہے جب کہ کیاکینگ، کینوئینگ، اور روئنگ کی تیکنیک سییکھنے سے آئندہ ہونے والے مقابلوں میں ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

ٹرینی نقیہ یعقوب کہتی ہیں کہ واٹرس سپورٹس میں آنا میرا خواب ہے اور میں قومی اور بین الاقومی سطح پر جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں۔ جس کی خاطر میں اس تربیتی کمیپ سے استفادہ کرنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں بین الاقوامی کوچ اور کھیلاڑی بلقیس میر کی نگرانی میں تربیت حاصل کر رہی ہوں۔

آبی کھیلوں کو فروغ دینے اور اس کھیل میں بہتر سے بہتر کھلاڑی تیار کرنے کے لیے اس اسپورٹس سنٹر کو جدید سہولیات سے لیس کیا جارہا ہے۔ انڈین کیاکنگ اور کنونگ ایسوسی ایشن کے تعاون سے یہاں بین الاقوامی معیار کے بوٹس کے علاوہ تربیت کے لیے درکار دیگر ضروری سامان بھی اس سنٹر میں بہم رکھا جا رہا یے تاکہ کھلاڑیوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آبی کھیلوں کی جانب نوجوان کے بڑھتے رجحان کا اندازہ بچوں کے اس جنون سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جہاں یہ بچے تراکی سیکھنے میں بڑی مشقت کر رہے ہیں وہیں یہ تربیت کے دیگر مراحلے کو سمجھنے میں بھی بڑی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

سوپور کےعمر شفع کہتے ہیں کہ ایک ہفتے کی تربیت کے دوران ہمیں یہاں بہت کچھ سکیھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ آبی کھیلوں کی جانب نوجوانون کی ترجہ بڑھ رہی یے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ آبی کھیلوں سے نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تندرست رہا جاسکتا یے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ آبی کھیلوں کے فروغ کی خاطر ضلع سطح پر ایسے تربیتی کمیپس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

واٹر اسپورٹس میں بین الاقوامی سطح پر اپنا نام کما چکی بلقیس میر اس سنٹر میں بحثیت کوچ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبی کھیل اب ڈل جھیل تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حکومتی اقدامات سے یہ ہر ضلع میں پہنچ چکا ہے۔ تاہم انہوں نے آبی کھیلوں کے فروغ کی خاطر سرکاری سطح پر مزید کام کرنے کی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایسے میں امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں بہتر سے بہتر کھلاڑی یہاں سے ابھر کر سامنے آئیں گے جو کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کریں گے۔
مزید پڑھیں:
سوپور میں منعقدہ دو روزہ واٹر اسپورٹس رومنگ چیمپئن شپ کا اختتام
اننت ناگ اسپورٹس اسٹیڈیم میں کھیل سرگرمیوں کی بحالی، کھلاڑیوں اور عوام میں خوشی کی لہر

