ETV Bharat / jammu-and-kashmir
حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ
عمر عبداللہ نے کہا ہمیں بجلی مہنگی ہونے پر کوئی خوشی نہیں ہے، لیکن یہ ہمارے لیے ایک مجبوری تھی۔

Published : August 24, 2026 at 8:25 PM IST
سری نگر: (جاوید احمد ڈار) سرینگر میں آج جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ مفت بجلی سولر اسکیم کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ نظرثانی کا اس اسکیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے چار سال بعد بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ سابقہ حکومتوں کے دور میں نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اور چار سال قبل تقریباً 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم نے بجلی کے نرخوں میں جتنا ممکن تھا، اتنا ہی کم اضافہ کیا ہے۔ ہمیں بجلی مہنگی ہونے پر کوئی خوشی نہیں ہے، لیکن یہ ہمارے لیے ایک مجبوری تھی۔" انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کے شعبے میں نقصانات کم ہونے کے ساتھ اس طرح کے اقدامات کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔
حکومتی ردوبدل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت محسوس ہوئی، کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے صرف 15 اگست سے پہلے ردوبدل کے امکان کو مسترد کیا تھا۔انہوں نے کہا، "حکومت میں کوئی بحران نہیں ہے۔ ہمارا کام جاری ہے۔ جب ردوبدل کی ضرورت ہوگی تو ہم کریں گے۔"
کشمیر پنڈت ملازمین کو مبینہ طور پر موصول ہونے والی دھمکیوں سے متعلق سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے اسے تشویش کا معاملہ قرار دیا اور پولیس، سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل اور باریک بینی سے تحقیقات کریں۔ انہوں نے کہا ایسی دھمکیوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اپنے ملازمین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا پولیس کی بڑی ذمہ داری ہے۔
ماضی میں پنڈت ملازمین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکام کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ تازہ دھمکیوں کے پیچھے کون ہیں اور ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان اور سکیورٹی کا معاملہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں۔

