ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں اُچھال
زعفران کے کاشتکاروں اور تاجروں نے آئندہ کچھ عرصے تک زعفران کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

Published : June 12, 2026 at 7:35 PM IST
سرینگر: دنیا کے سب سے مہنگے مصالحے - زعفران - کی قیمتوں میں بھارتی منڈیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایران اور کشمیر میں پیداوار کم ہونے کے باعث عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے "سرخ سونا" کہے جانے والے زعفران کی دستیابی کم کرکے قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
کاشتکاروں اور تاجروں نے "مغربی ایشیا کی سیاسی کشیدگی، بین الاقوامی سپلائی چین میں رکاوٹیں اور کشمیر میں زعفران کی کاشت کو درپیش مسلسل مشکلات" کو زعفران کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں گردانا ہے۔

زعفران کی قیمتوں میں یہ تازہ اچھال ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق تنازعے کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ تاجروں کے مطابق تجارتی راستوں، نقل و حمل اور مستقبل کی سپلائی کے بارے میں خدشات نے پہلے سے محدود مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
سیفران ٹاؤن کے نام سے معروف جنوبی کشمیر کے پانپور قصبہ میں زعفران سے وابستہ کاشتکاروں کی ایک انجمن کے صدر عبدالمجید نے کہا کہ مقامی پیداوار میں کمی اور ایران سے سپلائی پر ہوئے اثرات نے قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کشمیر میں زعفران کی پیداوار معمول سے بہت کم رہی، جبکہ ایران سے متعلق صورتحال نے بھی مارکیٹ میں دستیابی کو مزید محدود کر دیا۔

ایران میں دنیا کی تقریباً 90 فیصد زعفران کی پیداوار ہوتی ہے، جس کی بڑی مقدار شمال مشرقی صوبہ خراسان سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایران کو عالمی طور پر زعفران کی پیداوار کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
زعفران کی کاشت اور تجارت وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث خریداری کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ درآمد کنندگان اور کاشتکاروں کے مطابق ایرانی زعفران، جو عام طور پر 150 سے 160 روپے فی گرام فروخت ہوتا تھا، اب کئی منڈیوں میں 190 سے 200 روپے فی گرام تک پہنچ چکا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے اجناس کی عالمی تجارت سے وابستہ افراد کو بھی تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن فوجی تناؤ اب بھی برقرار ہے۔ تاجروں کے مطابق خلیجی خطے میں تجارتی راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے زعفران سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

اگرچہ زعفران کی ترسیل براہ راست متاثر نہیں ہوئی، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ نقل و حمل، انشورنس اور ادائیگی کے نظام سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث درآمد کنندگان محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارت میں مجموعی زعفران پیداوار کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ کشمیر سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ اس کی زیادہ تر کاشت ضلع پلوامہ کے پانپور علاقے میں کی جاتی ہے۔ کشمیر کے "سرخ سونے" کو گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمی اتار چڑھاؤ خاص کر کم بارشوں، آبپاشی نظام میں خرابی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں زعفران کی پیداوار 2020-21 میں 17.33 ٹن تھی، جو 2021-22 میں کم ہو کر 14.87 ٹن اور 2022-23 میں 14.94 ٹن رہ گئی۔ بعد ازاں 2023-24 میں پیداوار بڑھ کر 23.53 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، تاہم 2024-25 میں دوبارہ کم ہو کر 19.58 میٹرک ٹن رہ گئی۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی غیر یقینی اب بھی زعفران کے پھولوں کی افزائش اور پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔ عبدالمجید کے مطابق حکومتی سطح پر آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور پیداوار بڑھانے کی کوششوں کے باوجود موسمی حالات زعفران کی کاشت کو غیر متوقع بنا رہے ہیں۔
بنیادی طور پر کشمیری زعفران کی دو اقسام فروخت کی جاتی ہیں: پہلی مونگرا، جو مکمل سرخ دھاگوں پر مشتمل اعلیٰ معیار کے زعفران کی قسم ہے اور اپنی خوشبو و رنگت کے لیے مشہور ہے۔ جبکہ دوسری قسم کو مقامی طور پر لاچھا کہا جاتا ہے جس میں سرخ ریشوں کے ساتھ تھوڑی مقدار میں زرد دھاگے بھی شامل ہوتے ہیں۔
کاشتکاروں کے مطابق دونوں اقسام کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عبدالمجید نے بتایا کہ اس وقت اعلیٰ معیار کے مونگرا زعفران کی قیمت لاچھا کے مقابلے میں 40 سے 50 روپے فی گرام زیادہ ہے، جس کی وجہ مضبوط طلب اور محدود دستیابی ہے۔
زعفران کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات خوراک، مٹھائی صنعت، ہوٹل صنعت، ادویات اور کاسمیٹکس سمیت کئی شعبوں پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔ خاص طور پر تہواروں اور شادیوں کے موسم سے قبل مٹھائیوں اور روایتی غذائی مصنوعات تیار کرنے والے ادارے مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ چونکہ زعفران کم مقدار میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے فی الحال طلب مستحکم ہے، تاہم قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مستقبل میں خرید و فروخت پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
دہلی کے زعفران تاجر راجیش کمار نے کہا کہ کشمیر اور ایران، دونوں مقامات سے سپلائی میں بیک وقت کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں خریدار محدود ذخائر کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے قیمتوں پر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔

ادھر، کاشتکاروں اور تاجروں کا ماننا ہے کہ آئندہ کچھ عرصے تک زعفران کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔ عبدالمجید کے مطابق کشمیر میں کم پیداوار اور ایران سے سپلائی کے خدشات نے مل کر مارکیٹ میں قلت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پیداوار میں بہتری نہیں آتی اور عالمی سپلائی چین معمول پر نہیں آتی، قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:

